اتوار
2019-06-16
6:31 PM
Welcome مہمان
RSS
 
Read! the name of lord پڑھ اپنے رب کے نام سے
Home Sign Up Log In
نماز کی قدر و منزلت - آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں »
[ Updated threads · New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
  • Page 1 of 1
  • 1
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » اسلام » نماز کی قدر و منزلت (نماز کی قدر و منزلت)
نماز کی قدر و منزلت
lovelessDate: بدھ, 2011-09-14, 0:48 AM | Message # 1
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
[size=16]
بسم اللہ الرحمن الرحیم

نماز کی قدر و منزلت

فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اﷲِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ
جو شخص اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو گویا اس کا دِل بہت متقی ہے(الحج)۔

علماء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ظاہر نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی بڑی اہمیت اور مقام ہے۔ یہ عبادت دیگر تمام عبادات سے بڑھ کر امتیازات و خصائص کی حامل ہے۔ کچھ خصوصیات ذیل میں درج ہیں:

1۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر ایمان رکھنے کے حکم کے بعد سب سے پہلے نماز کو فرض کیا تھا۔

2۔ توحید الٰہی کے بعد سب سے بڑھ کر عظمت نماز کو حاصل ہے۔ ارکانِ اسلام میں توحید کے بعد سب سے بڑا رکن نماز ہے۔ حج زکوٰۃ، روزہ کا نمبر نماز کے بعد آتا ہے۔

3۔ مسلمان کا سب سے بہترین عمل نماز ہے۔ فرمانِ نبویصلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’خوب جان لو تمہارا بہترین عمل نماز ہے‘‘۔ (مسند احمد۔ صححہ الالبانی)۔

4۔ معراج کے موقع پر آسمانوں میں نماز فرض کی گئی تھی۔ دیگر تمام ارکان زمین پر فرض کئے گئے تھے۔

5۔ نماز کو تمام رسولوں اور نبیوں پر فرض کیا گیا ہے بلکہ آسمانوں اور زمین دونوں پر عبادت اسی طریقے سے کی جاتی ہے۔

6۔ بچوں کو چھوٹی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جس طرح کہ حدیث ہے: ’’اپنی اولاد کو سات برس کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو‘‘ (ابوداؤد،مسند احمد)۔

7۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری وصیت بھی نماز کے متعلق تھی۔ جیسا کہ مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے آخری حکم جو دیا تو وہ یہ تھا کہ ’’نماز، نماز اور غلاموں کا خیال کرنا‘‘۔ (نسائی، مسند احمد وغیرہ)۔

8۔ یہ ایسا فریضہ ہے جو کسی مسلم پر کبھی بھی ساقط نہیں ہوتا۔ علاوہ حائضہ اور نفاس والی عورت کے۔ مسافر، بیمار اور حالت خوف والے کو حسب استطاعت نماز پڑھنے کا حکم ہے۔ اس کے برعکس روزے، زکوٰۃ اور حج، عذر کی حالت میں فرض نہیں رہتے۔

9۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے نماز کے ترک کے علاوہ کفر کا حکم کسی اور چیز کے ترک پر مروی نہیں ہے۔

10۔ نماز ایک ایسا عمل ہے جو دین میں آخر تک چلے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ’’لوگوں کا آخری دینی عمل نماز باقی رہے گا‘‘ (صحیح الجامع۔ البانی)۔

11۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کا نام ایمان رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:

وَ مَا کَانَ اﷲُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ
اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ (البقرۃ:)۔

12۔ انسان سجدے کی حالت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

13۔ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ پانے کا ذریعہ، سب سے بڑھ کر نماز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے جنت میں رفاقت کا سوال کرنے والے کو فرمایا گیا کہ ’’تم میری مدد کثرتِ سجود سے کرو‘‘ (مسلم)

14۔ قیامت کے دن مومنوں اور منافقوں کا فرق سجدے سے واضح ہو گا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ
جس دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو (لوگوں کو) سجدے کی دعوت دی جائے گی (تو منافق لوگ) سجدہ نہ کر سکیں گے۔ (القلم)۔

15۔ اُمت محمدیہ کی سب سے واضح ترین علامت نماز ہو گی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’بے شک میری اُمت کو قیامت کے دن پکارا جائے گا۔ ان کے وضو کے اعضاء چمک رہے ہوں گے‘‘ (بخاری و مسلم)۔

16۔ نمازی کو نماز جہنم کی آگ سے بچائے گی۔ اگرچہ یہ نمازی جہنم میں داخل کیوں نہ ہو جائے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدے کے نشانات کو کھائے‘‘ (متفق علیہ)۔

17۔ مسلمانوں کو فواحش، برائیوں اور جرائم سے روکنے کا بڑا سبب نماز ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ
بے شک نماز، فحاشی اور برائی سے روکتی ہے (العنکبوت:)۔

18۔ جان و مال کی حفاظت، ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ نماز سے ہوتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ
اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کو قائم کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو (التوبہ:)۔

اور اسی طرح حدیث میں فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے: ’’بے شک مجھے نمازیوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے‘‘ (ابوداؤد، مسند احمد)۔

19۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمان ہے:

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ (البقرہ)
اور تم مدد طلب کرو، صبر اور نماز کے ساتھ، بے شک یہ بھاری ہے مگر ڈرنے والوں کے لئے نہیں۔

20۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو جب کبھی کوئی بڑا معاملہ پیش آتا یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر گبھراہٹ طاری ہوتی تو آپ نماز کی طرف فوراً چلے جاتے تھے (ابوداؤد۔ مسند احمد)۔

21۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کا حکم دیتے تو یوں فرماتے تھے: ’’اے بلال: کھڑے ہو جاؤ اور ہمیں نماز سے سکون پہنچاؤ (یعنی اذان دو)‘‘۔ (ابوداؤد، مسند احمد)۔

22۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے: ’’میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے‘‘۔ (احمد)۔

23۔ نماز، تمام اعمال کے مقابلے میں ایک ترازو کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا اِرشاد ہے کہ: ’’جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے تو وہ دیگر اعمال کی بھی حفاظت کرے گا۔ اور جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے تو وہ دیگر اعمال کو بھی ضائع کرے گا۔

24۔ جو شخص اپنا مقام و منزلت، اللہ تعالیٰ کے حضور دیکھنا چاہے تو وہ اپنا مقام نماز کے مطابق دیکھئے۔( قولِ امام احمد)۔

25۔ اللہ تعالیٰ کی توحید، تعظیم، تکبیر اور حمد و ثنائ، انسان کی عاجزی و انکساری ان تمام اُمور کا مجموعہ نماز ہے۔

26۔ نماز میں بندے اور پروردگار میں مناجات کا سلسلہ بھی رکھا گیا ہے۔ جب بندہ کہتا ہے کہ ’’الرحمن الرحیم‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے بندے نے میری تعریف بیان کی‘‘۔ ’’مالک یوم الدین‘‘ کہنے پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میرے بندے نے میری عظمت بیان کی‘‘ (مفہوم صحیح مسلم)۔ اور ایک مقام پر فرمایا: ’’بے شک تم میں سے کوئی جب ایک نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)۔

27۔ قیامت کے دن سب سے پہلے حساب و کتاب نماز کی بابت ہو گا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ’’اگر نماز کا معاملہ درست ہوا تو سارے اعمال درست ہو جائیں گے اور اگر نماز کا معاملہ بگڑا تو سارے اعمال بگڑ جائیں گے‘‘ (ابوداؤد)۔

28۔ نماز گناہوں سے بخشش کا بڑا سبب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ’’جو بھی مسلمان، فرض نماز پڑھنے کے لئے اچھے طریقے سے وضو کرے اور خشوع و خضوع سے رکوع سجود کرے تو اس کا یہ عمل اس کے تمام گذشتہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ بشرطیکہ وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ اور یہ (ثواب) تمام عمر کے لئے ہے‘‘ـ (ابوداؤد)۔

29۔ دنیا و آخرت کی فلاح و خیر کا بڑا سبب نماز ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ: ’’تحقیق وہ مومن فلاح پا گئے جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کرتے ہیں‘‘ (المومنون)۔

30۔ تزکیہ نفس کے لئے نماز بڑا اہم ذریعہ ہے۔ انسان کو جزع فزع، بخیلی اور برے اخلاق سے بچاتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’بے شک انسان بڑا بے صبرا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ جزع فزع کرنے لگتا ہے۔ اور جب خیر ملتی ہے تو (لوگوں کو دینے) سے منع کر دیتا ہے۔ مگر نماز پڑھنے والے (ایسے نہیں ہوتے) ۔ (سورہ معارج)۔

31۔ رزق کی کنجیوں میں ایک بڑی کنجی نماز ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر ڈٹے رہو۔ ہم تم سے رزق کا سوال نہیں کرتے بلکہ رزق دینے والے ہم ہیں۔ اور عاقبت تو تقوی والوں کے لئے ہے‘‘۔ (سورہ طہ)۔

32۔ جو شخص نماز کی محافظت کرتا ہے تو اس کا اللہ پر حق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں۔ جو شخص ان نمازوں میں، بہترین وضو کرے۔ اپنے اپنے اوقات پر نماز پڑھے۔ مکمل رکوع کرے۔ عاجزی کے ساتھ پڑھے۔ تو اس کا اللہ تعالیٰ پر حق بنتا ہے کہ اللہ اس کو معاف فرما دے۔ اور جو ایسا نہ کرے گا تو اس کا کوئی حق نہیں بنے گا۔ اگر اللہ چاہے تو بخش دے، نہ چاہے تو نہ بخشے‘‘۔ (ابوداؤد مسند احمد)۔

33۔ نماز پڑھتے وقت کسی دوسرے کام میں مشغول نہیں ہوا جا سکتا۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ’’بے شک نماز کی اپنی ایک خاص مشغولیت ہے‘‘ (بخاری و مسلم)۔

34۔ فرمان ہے کہ ’’رأس الامر اسلام ہے، ستون نماز ہے اور کوہان کی بلندی جہاد سے ہے‘‘۔(سنن ترمذی، مسند احمد)۔ یعنی اس دین کا بنیادی معاملہ تو اسلام ہے اور ستون کی حیثیت نماز کو حاصل ہے۔ اور دین کی سربلندی جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔

35۔ اس عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو شرائط رکھی ہیں وہ کسی اور عبادت میں نہیں پائی جاتیں مثلاً مکمل پاکیزگی، صاف ستھرا لباس، قبلہ کی طرف منہ کرنا وغیرہ۔

36۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس عبادت پر ڈٹے رہنے کا حکم دیا ہے۔

37۔ دنیا میں آنے والے بچے کو سب سے پہلے نماز کی خبر ملتی ہے یعنی اس کی کان میں اذان دی جاتی ہے۔ اور مسلم کا دنیا سے آخری الوداعی معاملہ بھی نماز سے ہوتا ہے۔ یعنی کہ نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎

اذان بعد ولادت، نماز بعد وفات
بس اتنی سی زندگی ہے اس جہان کے لئے

38۔ قیامت کے دن جہنمیوں کی پہلی حسرت نماز چھوڑنے کے بارے میں ہوگی۔ فرمانِ الٰہی ہے:

مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ (المدثر)
ان سے پوچھا جائے گا کہ کس وجہ سے تم جہنم میں ڈالے گئے تو یہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔

39۔ جو نماز کی حفاظت کرے گا تو یہ نماز اس کے لئے نور، برھان اور باعث نجات ہو گی۔ فرمانِ رسول : ’’جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے تو یہ نماز اس کے لئے نور، برھان اور قیامت کے دن نجات کا ذریعہ ہو گی۔ جو حفاظت نہ کرے گا تو یہ نماز نہ تو اس کے لئے نور بنے گی نہ دلیل اور نہ باعث نجات ہو گی بلکہ بے نمازی قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان، ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا‘‘۔ (مسند احمد، ابن حبان)
[/size]


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » اسلام » نماز کی قدر و منزلت (نماز کی قدر و منزلت)
  • Page 1 of 1
  • 1
Search: