بدھ
2020-09-30
0:35 AM
Welcome مہمان
RSS
 
Read! the name of lord پڑھ اپنے رب کے نام سے
Home Sign Up Log In
شیخ نور محمد۔۔۔۔جن کی آئندہ نسل سے عظیم ہستیوں نے جنم لیا - آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں »
[ Updated threads · New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
  • Page 1 of 1
  • 1
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » تاریخ اور فلسفہ » شیخ نور محمد۔۔۔۔جن کی آئندہ نسل سے عظیم ہستیوں نے جنم لیا (شیخ نور محمد۔۔۔۔جن کی آئندہ نسل سے عظیم ہستیوں نے جنم لیا)
شیخ نور محمد۔۔۔۔جن کی آئندہ نسل سے عظیم ہستیوں نے جنم لیا
lovelessDate: سوموار, 2011-06-13, 11:53 PM | Message # 1
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
عظیم ہیں وہ لوگ کہ جن کی آئندہ نسل سے عظیم ہستیوں نے جنم لیا اور جنہوں نے ان کی بہتر انداز میں پرورش فرمائی اور ان کو اس قابل بنایا کہ وہ دنیا کو اپنی خداداد صلاحتوں سے مستفید کر سکیں ۔ ایسا ہی نام تاریخ میں شیخ نور محمد کا ملتا ہے جو ایک سادہ اور ان پڑھ انسان تھے مگر انتہائی بصیرت کے مالک تھے ۔ شیخ نور محمد کے گھر میں ایک ایسی عظیم ہستی نے جنم لیا جس نے برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو ایک نئی زندگی عطا کر دی اور امت مسلم میں ایک نیا جذبہ پیدا کر دیا ۔

شیخ نور محمد کاٹھ اور شکل و صورت کے اعتبار سے نمایاں شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی شادی موضع سمبڑ یال (موجود تحصیل) کے ایک کشمیری گھرانے میں امام بی بی سے ہوئی۔ شادی کے تھوڑے عرصے بعد ان کے سسرال والے بھی سیالکوٹ آئے اور یہیں سکونت اختیار کی۔ شیخ نور محمد کو عرف عام میں''نتھو'' کہتے تھے اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کی پیدائش سے پہلے ان کے والد کے ہاں دس لڑکے اوپر تلے فوت ہوگئے تھے۔

شیخ نور محمد کی پیدائش پر بڑی منتیں مانی گئیں تھیں اور مقامی ٹوٹکے کے مطابق ان کی ناک چھدوا کر سونے یا چاندی کی نتھ پہنا دی گئی تھی۔ ناک میں اس نتھ کی وجہ سے لوگ انہیں '' نتھو'' کہہ کر پکارتے تھے۔ شیخ نور محمد کوان کے خاندان میں میاں جی کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ نہایت وجیہ شکیل بزرگ تھے۔ رنگ سرخ، داڑھی سفید، لباس سادہ بہت کم گوتھے نہایت متین ،ذی عقل ، سنجیدہ مزاج بزرگ تھے۔

شیخ نور محمد پڑھے لکھے تو نہ تھے لیکن شروع سے ہی اہل دین کی صحبت نے انہیں ایک نہایت ہی اچھا اور متقی انسان بنادیا اور ان کی شخصیت میں تصوف کا نمایاں پہلو تھا۔ انہوں نے محنت لگن اور خلوص سے روحانیت کی کئی منازل طے کی تھیں شاید اسی وجہ سے لوگ انہیں ''ان پڑھ فلسفی'' کا خطاب دیتے تھے۔ شیخ نور محمد ڈپتی وزیر بلگرامی کے ہاں کپڑے سینے کی ملازمت کرتے تھے۔

لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے یہ ملازمت ترک کر دی اور اپنی گذر اوقات کے لئے کرتے بنانا شروع کر دیئے۔ وہ خود بھی عام طور پر ململ کا کرتہ پہنتے تھے انہوں نے برقعوں کی ٹوپیاں بنانے کا کاروبار شروع کیا تھا جو بہت چمکا اور اس کاروبار نے اتنی ترقی کی کہ انہیں اس کام کے لئے ملازم رکھنے پڑے۔

شیخ نور محمد کے ہاں دو بیٹوں شیخ عطا محمد( 1860) اور علامہ اقبال (1877 کی ولادت ہوئی شیخ نور محمد صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ انہوں نے تمام عمر سادگی سے بسر کی ۔ والد کی آخری بیماری میں ایک دن علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے باتوں میں ان سے پوچھا ! والد بزرگوار آپ سے جو میں نے اسلام کی خدمت کا عہد کیا تھا وہ پورا کیا یا نہیں ؟ باپ نے بستر مرگ پر شہادت دی ! جان من ! تم نے میری محنت کا معاوضہ ادا کر دیا ہے آخر کار شیخ نور محمد 90 برس کی عمر میں 17 اگست 1930 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ ان کو امام صاحب قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
-----------


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » تاریخ اور فلسفہ » شیخ نور محمد۔۔۔۔جن کی آئندہ نسل سے عظیم ہستیوں نے جنم لیا (شیخ نور محمد۔۔۔۔جن کی آئندہ نسل سے عظیم ہستیوں نے جنم لیا)
  • Page 1 of 1
  • 1
Search: