بدھ
2020-10-21
1:13 AM
Welcome مہمان
RSS
 
Read! the name of lord پڑھ اپنے رب کے نام سے
Home Sign Up Log In
New Posts - آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں »
[ Updated threads · New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
New messages
lovelessDate: منگل, 2013-02-05, 11:53 PM | Message # 1
Forum: اپکے کالم | Thread: پاکستان ائیر فورس کے دو حملے جو اسرائیل کو آج بھی تڑپاتے ہیں
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اسرائیل اور پاکستان دوست کیوںنہیں بن سکتے؟ اس سوال کا تو مجھے نہیں پتہ مگر پاکستان اور اسرائیل آج سے نہیں بلکہ اپنی
پیدائش کے پہلے دن سے ہی ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے ہم
ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز نہیں آتے۔ اسرائیل نے بلاشبہ پاکستان کو
بہت نقصان پہنچایا ہے مگر ہم نے اسے بدلہ لئے بغیر نہیں چھوڑا۔ہم نے بھی
اسرائیلیوں پر ثابت کیا ہے کہ ہم بھی اپنی ہی مائوں کا دودھ پی کر جوان
ہوئے ہیں۔میرا تعلق پاکستان فضائیہ سے ہے اور ایسے دو معرکوں میں، میں
شامل رہا ہوں جس میں ہم نے اسرائیل کی سرزمین پر جا کر اسے نا صرف للکارا
بلکہ اس کے جہاز بھی تباہ کئے اور وہ آج تک اس کا بدلہ لینے کو تڑپ رہا ہے۔
مجھے آپ پاکستان ائیر فورس کا ایک گمنام سپاہی سمجھ لیں۔ پہلی بار ہم نے
پہلی بار اسرائیلوں کے سینے میں خنجر اس وقت گھونپا جب عرب اسرائیل چھ
روزہ جنگ شروع ہوئی تھی۔ جسے عرب اسرائیل جنگ 1967ء، تیسری عرب اسرائیل
جنگ اور جنگ جون بھی کہا جاتا ہے مصر، عراق، اردن اور شام کے اتحاد اور
اسرائیل کے درمیان لڑی گئی جس میں اسرائیل نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔
دراصل ہوا یہ تھا کہمصر کے صدر جمال عبدالناصر نے پہلے تو یمنی حریت پسندوں
کے ایک گروہ سے اتحاد کرکے ستمبر 1965ء میں امام یمن کا تختہ الٹ دیا اور
جب اس کے نتیجے میں شاہ پسندوں اور جمہوریت پسندوں کے درمیان جنگ چھڑگئی
تو صدر ناصر نے اپنے حامیوں کی مدد کے لئے وسیع پیمانے پر فوج اور اسلحہ
یمن بھیجنا شرع کردیا اور چند ماہ کے اندر یمن میں مصری فوجوں کی تعداد 70
ہزار تک پہنچ گئی۔ بلاشبہ صدر ناصر کے اس جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے عرب
کے ایک انتہائی پسماندہ ملک یمن میں بادشاہت کا قدیم اور فرسودہ نظام ختم
ہوگیا اور جمہوریت کی داغ بیل ڈال دی گئی لیکن یہ اقدام خود مصر کے لئے
تباہ کن ثابت ہوا۔
صدر ناصر یمن کی فوجی امداد کے بعد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اب
مصر دنیائے عرب کا سب سے طاقتور ملک بن گیا ہے وہ اسرائیل کے مقابلے میں
روس پر مکمل بھروسہ کرسکتا ہے چنانچہ ایک طرف تو انہوں نے طاقت کے مظاہرے
کے لئے ہزاروں فوجی یمن بھیج دیئے اور دوسری طرف اسرائیل کو دھمکیاں دینا
اور مشتعل کرنا شروع کردیا۔ اقوام متحدہ کی جو فوج 1956ء سے اسرائیل اور
مصر کی سرحد پر تعینات تھی صدر ناصر نے اس کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور
آبنائے عقبہ کو جہاز رانی کے لئے بند کرکے اسرائیل کی ناکہ بندی کردی۔
اسرائیل نے جو جنگ کے لئے پوری طرح تیار تھا اور جس کو امریکہ کی امداد پر
بجا طور پر بھروسہ تھا مصر کی کمزوری کا اندازہ کرکے جون 1967ء کے پہلے
ہفتے میں بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر
فضائی بیڑہ ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر کی فوج کا بڑا حصہ یمن میں تھا
جسے بروقت بلانا نا ممکن تھا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دن کی مختصر مدت میں
اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام
میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ
کرلیا اور مغربی بیت المقدس پر بھی اسرائیلی افواج کا قبضہ ہوگیا۔
ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالئے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں
برباد ہوگئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ عربوں نے اپنی تاریخ میں
کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی اور اس کے اثرات سے ابھی تک عربوں
کو نجات نہیں ملی۔ اسرائیل کے مقابلے میں اس ذلت آمیز شکست کے بعد صدر
ناصر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ سعودی عرب اور اردن سے مفاہمت پیدا کی اور
شاہ فیصل سے تصفیہ کے بعد جس کے تحت مصر نے یمن میں مداخلت نہ کرنے کا عہد
کیا، مصری فوجیں یمن سے واپس بلالی گئیں۔ مصر کی شکست کی سب سے بڑی وجہ
مصری فوج کی نااہلی اور مصری فوجی نظام کے نقائص تھے لیکن مصری فوج اور
اسلحہ کی بڑی تعداد کو یمن بھیجنا بھی شکست کی ایک بڑی وجہ تھی۔
مصری سمندر کے قریب اسرائیلی جہازوں نے امریکی بحریہ کے جہاز لبرٹی پر حملہ
کیا، جس میں 34 امریکی ہلاک ہوئے۔ اسرائیل اور امریکہ نے بعد میں اسے غلط
فہمی کا نتیجہ قرار دیا مگر اس کی امریکہ نے باقاعدہ تحقیقات سے گریز کیا۔
بعض محققین نے دعوٰی کیا ہے کہ حملہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔ ارادہ یہ تھا
کہ جہاز ڈوبنے کے بعد ملبہ مصر پر ڈال کر امریکہ کو براہِ راست جنگ میں
گھسیٹ لیا جائے۔ مگر جہاز ڈوبا نہیں اور اس لیے مصر پر الزام نہیں لگایا جا
سکا۔
6 روزہ جنگ میں پاک فضائیہ کے ہوا بازوں (پائلٹوں) نے بھی حصہ لیا پاکستانی
ہوا باز اردن، مصر اور عراق کی فضائیہ کی جانب سے لڑے اور اسرائیلی فضائیہ
کے 3 جہازوں کو مار گرایا جبکہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دراصل ہوا یہ
تھا کہ عرب ممالک نے پاکستان سے اپیل کی کہ اسرائیل نے اچانک حملہ کردیا ہے
اور ان کے پاس ماہر پائلٹ نہیں ہیں۔ اس پر پاکستان نے فوری طور پر ایک
درجن سے زائد پائلٹ بھیجے جنہوں نے داد شجاعت دی اور اسرائیل پر کئی کامیاب
پروازیں کیں اور عرب ممالک میں بمباری کرنے آنے والے تین جہازوں کو مار
گرایا جب کہ اسرائیلی زمینی دستوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا۔ انہوں نے
درجنوں جاسوسی پروازیں کر کے بھی توپ خانے کی مدد کی جب کہ پسپائی میں بھی
عرب فوج کو ہوائی مدد دے کر محفوظ بنایا۔ پاکستانی پائلٹس کی طرف سے حصہ
لینے کا معاملہ چھپا رہنے والا تو تھا نہیں اس لئے اسرائیل نے خوب دھمکیاں
دیں اور پھر وہ اس وقت فاتح بھی تھا۔

اس جنگ میں عرب افواج کے 21 ہزار فوجی ہلاک، 45 ہزار زحمی اور 6 ہزار قیدی
بنالئے گئے جبکہ اندازا 400 سے زائد طیارے تباہ ہوئے۔جبکہ اس کے مقابلے میں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے 779 فوجی مارے گئےجبکہ 2563 زخمی
اور 15 قیدی بنالئے گئے۔جون 1967ء کی جنگ میں شکست کے نتیجے میں غزہ
(فلسطین) اور جزیرہ نمائے سینا کا 24 ہزار مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع
کلومیٹر) کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آگیا، نہر سوئز بند ہوگئی اور مصر
جزیرہ نمائے سینا کے تیل کے چشموں سے محروم ہوگیا۔ صدر ناصر نے شکست کی ذمہ
داری تسلیم کرتے ہوئے فورا استعفی دے دیا لیکن ان کا استعفی واپس لینے کے
لئے قاہرہ میں مظاہرے کئے گئے اور صدر ناصر نے استعفی واپس لے لیا۔ اس طرح
صدر ناصر کا اقتدار تو قائم رہا لیکن 1967ء کی شکست کی وجہ سے مصری فوج کی
عزت خاک میں مل گئی۔ لوگ فوجیوں کو دیکھ کر فقرے چست کرنے لگے جس کی وجہ سے
فوجیوں کو عام اوقات میں وردی پہن کر سڑکوں پر نکلنے سے روک دیا گیا۔ لیکن
عرب ممالک کے دل میں اس شکست نے آگ لگا دی اور یہی آگ ایک اور جنگ کی وجہ
بنی جس میں ایک بار پھر پاکستانی ائیر فورس کے پائلٹ اسرائیل پر بم برسانے
کو تیار تھے۔ اور اس جنگ میں اللہ نے مسلمانوں کو فاتح بنایا۔
1967ء کی جنگ نے مصر کی معیشت کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ مصر کی آمدنی کا
ایک بہت بڑا ذریعہ نہر سوئز تھی جس کی وجہ سے مصر کو ہر سال ساڑھے 9 کروڑ
ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ نہر کے مشرقی کنارے پر اسرائیل کا قبضہ ہوجانے کے
بعد نہر سوئز میں جہاز رانی بند ہوگئی۔ ایک ایسے موقع پر جبکہ مصر کو
اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اپنی معیشت کو
مضبوط بنانے کے لئے سرمائے کی ضرورت تھی نہر سوئز کی آمدنی کا بند ہونا بڑا
تباہ کن ثابت ہوتا لیکن سعودی عرب، کویت اور لیبیا آڑے آئے اور تینوں نے
مل کر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد فراہم کرکے نہر سوئز کی بندش سے
ہونے والے نقصان کی تلافی کردی۔
جولائی 1968ء میں صدر ناصر نے روس کا دورہ کیا جس کے بعد روس نے مصر کو از
سر نو مسلح کرنا شروع کیا۔ روس نے پہلی مرتبہ زمین سے ہوا میں چلائے جانے
والے کم فاصلے کے میزائل مصر کو دیئے۔ آواز کی رفتار سے ڈیڑھ گنا تیز چلنے
والے جیٹ طیارے اور 500 ٹینک دینے کا وعدہ کیا۔ تین ہزار فوجی مشیر اور فنی
ماہر بھی فراہم کئے۔ عرب ملکوں میں سعودی عرب، کویت اور لیبیا نے وسیع
پیمانے پر مالی امداد فراہم کی۔ روس اور عرب ملکوں کی اس امداد سے مصر کے
فوجی نقصانات کی ایک حد تک تلافی بھی ہوگئی اور اقتصادی حالت بھی سنبھل
گئی۔ 1968ء کے آخر میں اسوان بند نے بھی کام شروع کردیا۔
نہر سوئز کو مصر کی معیشت میں بنیادی اہمیت حاصل تھی لیکن یہ نہر 6 روزہ
جنگ میں اسرائیلی قبضے کے بعد سے بند پڑی تھی۔ آمدنی کے اس ذریعے سے محروم
ہوجانے کے بعد مصر کو سعودی عرب، کویت اور لیبیا کی اقتصادی امداد پر
انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔ اس مسئلےکو حل کرنے کے لئے مصر کے صدر انور سادات
نے یہ پیشکش کی کہ اگر اسرائیلی نہر کے مشرقی ساحل سے واپس ہوجائیں تو نہر
سوئز کھول دی جائے گی لیکن یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا جس پر مصر نے حملے
کا فیصلہ کرلیا اور پاکستانی پائلٹ ایک بار پھر اسرائیل پر آگ برسانے کو
تیار تھے۔
اس جنگ کے دوران پاکستان نے مصر اور شام کی مدد کے لئے 16 ہوا باز مشرق
وسطی بھیجے اور 8 پاکستانی ہوا بازوں نے شام کی جانب سے جنگ میں حصہ لیا
اور مگ-21 طیاروں میں پروازیں کیں۔ پاکستان کے فلائٹ لیفٹیننٹ اے ستار علوی
یوم کپور جنگ میں پاکستان کے پہلے ہوا باز تھے جنہوں نے اسرائیل کے ایک
میراج طیارے کو مار گرایا۔ انہیں شامی حکومت کی جانب سے اعزاز سے بھی نوازا
گیا۔ ان کے علاوہ پاکستانی ہوا بازوں نے اسرائیل کے 4 ایف 4 فینٹم طیارے
تباہ کئے جبکہ پاکستان کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔پاکستانی
پائلٹس نے اسرائیلی توپ خانے کو تباہ کرنے کے علاوہ رہنمائی فراہم کرنے
والی پروازیں بھی کیں اور کئی ایسے کارنامے انجام دئے جو آج تک اسرائیلی
سینے میں انگارے بن کر بے چین کررہے ہیں۔یہ پاکستانی ہوا باز 1976ء تک شام
میں موجود رہے اور شام کے ہوا بازوں کو جنگی تربیت دیتے رہے ۔
امن کی کوششوں میں کامیابی نہ ملنے پر مصر نے تو 6 اکتوبر 1973ء کو مصر نے
حملہ کردیا اور مصری افواج نے نہر پار کرکے اسرائیلی فوجوں کو مشرقی ساحل
تہس نہس کردیا۔
اس طرح مصر نے 27 سال کی کشمکش کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کے مقابلے میں
ایسی کامیابی حاصل کی جس نے 1967ء کی شرمناک شکست کی جزوی طور پر تلافی
کردی۔ انور سادات نے مصر کا قومی دن 23 جولائی کے بجائے 6 اکتوبر مقرر کرکے
اس شاندار کامیابی کو یادگار دن بنادیا۔ 1975ء میں نہر سوئز بین الاقوامی
جہاز رانی کے لئے کھول دی گئی اور اس سے ہونے والی آمدنی سے مصر عربوں
ملکوں کی مالی امداد کی محتاجی سے آزاد ہوگیا۔
کہا جاتا ہے کہ جنگ یوم کپور میں اگر امریکہ پس پردہ اسرائیل کی بھر پور
امداد نہ کرتا تو فلسطین کامسئلہ حل ہو چکا تھا۔ امریکہ بظاہر جنگ میں حصہ
نہیں لے رہا تھا مگر اس کا طیارہ بردار بحری جہاز جزیرہ نما سینا کے شمال
میں بحیرہ روم میں ہر طرح سے لیس موجود تھا اس کے راڈاروں اور ہوائی جہازوں
نے اسرائیل کے دفاع کے علاوہ مصر میں پورٹ سعید کے پاس ہزاروں اسرائیلی
کمانڈو اتارنے میں بھی رہنمائی اور مدد کی ۔اسرائیلی کمانڈوز نے پورٹ سعید
کا محاصرہ کر لیا جو کئی دن جاری رہا ۔ وہاں مصری فوج موجود نہ تھی کیونکہ
اسے جغرافیائی لحاظ سے کوئی خطرہ نہ تھا ۔ اپنے دور حکومت میں جمال
عبدالناصر نے ہر جوان کے لئے 3 سال کی ملٹری ٹریننگ لازمی کی تھی جو اس وقت
کام آئی ۔ پورٹ سعید کے شہریوں نے اسرائیلی کمانڈوز کا بے جگری سے مقابلہ
کیا اور انہیں شہر میں داخل نہ ہونے دیا۔ پھر امریکہ، روس اور اقوام متحدہ
نے زور ڈال کر اقوام متحدہ کی قرارداد 338 کے ذریعے جنگ بندی کرا دی۔اس جنگ
میں اسرائیل کے 2656 فوجی ہلاک اور 7250 زخمی ہوئے۔ 400 ٹینک تباہ اور 600
کو جزوی نقصان پہنچا۔ اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مصری افواج
نے اسرائیل کے 102 طیارے مار گرائے


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: منگل, 2013-02-05, 11:45 PM | Message # 2
Forum: اپکے کالم | Thread: امریکی جنگ میں پاکستان کی شرکت کی حقیقت
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
امریکی جنگ میں پاکستان کی شرکت کی حقیقت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد!

9\11کا حادثہ امریکی تاریخ کا وہ انوکھا واقعہ ہے جس نے امریکی ساکھ اور
وقار کو خاک میں ملا کر رکھ دیا اس حادثے نے امریکہ کو بوکھلا دیا اور اس
نے اس واقعے کے ملزموں کو سخت سزا دینے کا اعلان کردیا ۔
بپھرے ہوئے پاگل امریکی ہاتھی نے افغانستان کو تہس نہس کرنے کے لئے یورپی اتحاد (ناٹو)کو ساتھ ملایا اور پاکستان کو دھمکی دی کہ ہمارا ساتھ دو یاپھر ہم تمہیں دشمن کا ساتھی سمجھیں گے اور غار کے تاریک دور میں پہنچادیں گے۔
ان سخت حالات میں ،کہ جب سب امریکہ سے گریزاں اور خائف تھے پاکستان کے لئے
اس جنگ سے غیر جانبدار رہنا بہت مشکل امرتھا جبکہ پاکستان کے دوست ممالک
کا مشورہ بھی یہی تھا کہ امریکہ کا مطالبہ مان لینا ہی مناسب ہے اور اس سے
ٹکراؤٹھیک نہیں ۔
پاکستان نے اس جنگ میں ایک بہت مشکل فیصلہ کیا جس سے وہ امریکہ کی مخالفت و
تباہی سے بھی بچ سکتا تھا اور اس کو افغانستان کی دلدل میں پھنساکر اس کا
غروربھی خاک میں ملا سکتا تھا ۔
امریکی جنگ میں شرکت،خوف یا حکمت عملی :
اگر اس شرکت کا سبب امریکہ کا خوف اور ڈر تھا تو شرعا ًاس کی بھی گنجائش اور رخصت ملتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَـافِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ‌ۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٲلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِى شَىۡءٍ
إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَٮٰةً۬‌۔۔۔۔۔

“ایمان والے مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائیں اور جو ایسا کرے
گا وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں مگریہ کہ تم ان سے بچو،کسی طرح سے
بچنا” (اٰل عمران:28) اورایک دوسرے مقام پرفرمایا :
مَن ڪَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ إِيمَـانِهِۦۤ إِلَّا مَنۡ أُڪۡرِهَ وَقَلۡبُهُ ۥ مُطۡمَٮِٕنُّۢ بِٱلۡإِيمَـانِ
“جو شخص اللہ کو ساتھ کفر کرے اپنے ایمان کے بعد ،سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائےاور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔”
(النحل :106) اللہ تعالیٰ نے مجبوری اور اکراہ کی صورت میں کفارسے دوستی کا اظہار اور جان بچانے کے لئے کلمہ کفر کہنے
یا کفریہ فعل سر انجام دینے کی رخصت دی ہے جبکہ دل ایمان پر مطمئن ہو ۔
اور اگراس نقطہ پر نظر ڈالیں جو کہ اب وقت کے ساتھ ساتھ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان حکمت عملی کے تحت اس جنگ میں شرکت پر آمادہ ہوا تو جنگ میں اس طرح کی حکمت عملی( فرمان رسولﷺ کےمطابق )اختیار کی جاسکتی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"الحرب خدعۃ"
“ جنگ تو نام ہی دھوکہ دہی کا ہے ۔”(صحیح البخاری )
ہم دیانتداری سے یہ سمجھتےہیں کہ اس جنگ میں شرکت کے اسباب میں ڈر اور حکمت عملی دونوں ہی شامل ہیں پا کستان کی جغرافیائی صورت حال اس طرح کی ہے کہ ایک طرف بھارت ہے جو کہ
پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس کے ساتھ پاکستان کی چار جنگیں ہوچکی ہیں 2900 km(تقریباً )بارڈرپر انڈین آرمی بیٹھی ہوئی ہے اوردوسری طرف افغانستان ،کہ جس کے ساتھ پا کستان کا بارڈرتقریباً 2600kmلمبا ہے جہاں انڈیا نوازشمالی اتحادکی حکومت کی صورت میں پاکستان دو پاٹوں کے درمیان پس کررہ جاتا ۔
اس مشکل صورت حال میں پاکستان نے دوست ممالک کے مشورے سے ایک حکمت عملی
اختیار کر کے امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنے کے لئے راستہ اور جگہ فراہم
کی اور یوں امریکی بدمعاش اس جال میں ایسے پھنسے کہ اب راہ فرار کے لئے
پاکستان اور طالبان کی منتیں کر رہے ہیں اور انہیں اپنی نام نہاد عزت بچانا
مشکل ہو رہا ہے ۔
اب دشمن امریکہ و اتحادی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے (امریکہ اور ناٹوکو) دھوکہ دیا ، مروادیا اوراب وہ پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں بلوچستان اور کراچی کے حالات اس بات کے گواہ ہیں لیکن ہمارے چند جذباتی اور ظاہر بین جوشیلے بھائی (جو نہ تو جنگی حربوں کو سمجھتے ہیں
اور نہ دینی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ) اس بات پر ناراض ہیں اور نادانستگی
میں امریکی اور بھارتی عزائم کی تکمیل کررہے ہیں ۔

[color=#000000]افغان کوئٹہ شوری ،حقانی گروپ،اور اسامہ بن لادن کی پاکستان کے حساس ترین علاقوں
میں موجودگی،کیا یہ بات ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ پاکستان کا اس جنگ
میں حقیقی کردار کیا رہا ہے ۔۔؟؟
[/color]

گوریلا جنگ کو سمجھنے والے لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ گوریلا جنگ کی کامیابی کے لئے ایک بیس کیمپ کی ضرورت ہوتی ہے جہاں یہ گوریلا ٹریننگ لے سکیں ،علاج ومعالجہ کروا سکیں اور آرام کرسکیں ۔اس بیس کیمپ کے بغیر گوریلا وار جیتنا ناممکن ہے ۔
پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے روس کے خلاف افغان مجاہدین کی سب سے زیادہ
مدد کی تھی افغانستان میں طالبان حکومت بنوانے ،اسے سب سے پہلے تسلیم کرنے
،پاکستان میں سفارت خانے بنانے اور دنیا بھر میں رابطہ قائم کرنے کی سہولت
پاکستان نے ہی دی تھی ۔اور اب بھی وہ افغان مجاہدین کا خفیہ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
کفر سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں تعاون یقینا ًایک سنگین جرم ہے اور یہ کام انسان کو کبیرہ گناہ سے کفروارتداد تک لے جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ۲۰۰۱ میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے متفقہ
طور پر حکومت کو اس مسئلے پر خبردارکرنے اور اس معاملے کی سنگینی سے ڈرانے
کی کوشش کی تھا اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی خفیہ منصوبوں ( پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اسلامی و جہادی تشخص کو تباہ کرنا ) کے بارے میں خبردار کیا۔
لیکن ایک طرف تو سہمے اور ڈرے ہوئے بزدل حکمران مجبوری کی گردان کرتے نظر آئے تو دوسری طرف ،ہمارے کچھ نا سمجھ و نادان ، دینی علوم سے بے بہرہ یا سطحی علم رکھنے والے ، زمینی حقائق سے بے خبر افراد، اس کمزوری اور خوف زدہ تعاون کو صرف کفر اکبر اورارتدا د کے زمرے میں ڈالنے پر اصرار کرتےنظر آئے۔ حالانکہ کہ کفر سے تعاون ، کبیرہ گناہ بھی ہےاور کفر اکبر بھی ، جو کہ بہت سے اصول
و ضوابط اور حالات کے صحیح علم اور تعاون کرنے والے کی حقیقی کیفیت کے علم
کا متقاضی ہے۔

یہیں پر بس نہیں !
بلکہ غلو کا شکار یہ لوگ اس نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں باقاعدہ ’’قتال و جہاد‘‘ کا نعرہ لگانے لگے. پاکستان کو دارالحرب قرار دے دیا اور مسلمان معاشرے کو حکمرانوں کی نا اہلی اور جہالت کی سزا دینا شروع کر دی۔ امن تباہ ہوا ،مسجدیں پامال ہوئیں, بچے یتیم ہوئے، عورتیں بیوہ ہوئیں اور لوگ جہاد جیسی عظیم عبادت سے ڈرنے اور گھبرانے لگے (حالانکہ اگر یہ حقیقی جہاد ہوتا تو جو اثرات پاکستانی مسلمانوں پرمرتب ہوئے، یہ
مسلمانوں کی بجائے امریکہ و ناٹو اور مشرکین ہند پر نظر آنے چاہئیں تھے)۔

ذرا سوچئے !
جو نقشہ اس وقت بن چکا ہے اور حالات دن بدن کھلتے جا رہے ہیں ، ان حالات میں کفروارتداد کے فتوے لگانا ، ملک میں دھماکے اور مسلح کاروائیوں سے
اسلامیان پاکستان کو(دانستہ و غیر دانستہ) خون میں نہلانا ،کیسا جہاد
اورکہاں کی دینداری ہے ؟

ان مشکل ترین حالات میں دشمن کو للکارنے کی بجائے اس کے دیرینہ عزائم(پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اسلامی و جہادی تشخص کو تباہ
کرنا) کی تکمیل کا موقع فراہم کرنا کہا ں کی اسلام دوستی اور کیسی
دانشمندی ہے ؟
روس کے خلاف افغان مجاہدین کی جتنی مدد پاکستان نے کی تھی ( اب تک لاکھوں
افغان ،پاکستان میں پناہ گزیں ہیں )اس کی مثال موجودہ دور میں کہیں نہیں
ملتی ، روس نے بھی اپنا بدلہ اور انتقام لینے کے لئے پاکستان میں تخریب
کاری کروائی تھی اور اب امریکہ بھی (اپنے ایجنٹوں کے ہاتھوں ) یہی کام
کروارہا ہے لیکن ہمارے بھولے بھالے بھائی ان چالوں اور سازشوں کو سمجھنے
سے قاصرہیں ۔اللہ تعالیٰ انہیں درست بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: منگل, 2013-02-05, 11:39 PM | Message # 3
Forum: اپکے کالم | Thread: امریکہ اور امریکی طالبان، پاکستان کے سخت ترین دشمن
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
امریکہ اور امریکی طالبان، پاکستان کے سخت ترین دشمن
اسلام ٹائمز: 2006ء سے پاکستان کے کئی شہروں میں ان خودکش حملہ آوروں کو استعمال
کیا گیا۔ مسجدوں اور خانقاہوں کو خصوصی نشانہ بنایا گیا۔ نوجوان پاکستانی
لڑکوں کو بتایا گیا کہ وہ پاکستان میں موجود امریکیوں سے لڑنے جا رہے ہیں،
لیکن حقیقت میں وہ پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ پاکستانی فوج کی طرف
سے 2008ء میں امریکی نمائندوں کو باضابطہ طور پر بتایا گیا تھا کہ امریکہ
طالبان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ 2009ء میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے بھی
لیون پینٹا سے یہی شکایت کی اور متعدد حملوں کی تفصیلات بتائیں۔






 ہم نے شروع سے ہی افغانستان میں امریکی مداخلت کی سختی سے مخالفت کی تھی، روس
نے افغانستان میں جارحیت کی، جو کسی بھی طور پر مناسب نہیں تھا۔ روس کے
خلاف امریکہ نے افغانستان کی سرزمین استعمال کی اور روس سے ویت نام کا بدلہ
لے لیا اور روس معاشی طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ امریکہ اسامہ سمیت ہزاروں
مجاہدین کو روس سے لڑنے کیلئے افغانستان لایا تھا۔ اسامہ سمیت سب کو
مجاہدین، القاعدہ، طالبان اور دہشتگرد نام امریکہ نے دیئے ہیں۔ اسی وقت سے
لیکر آج تک یہ جنگ امریکہ کی تھی اور جب تک افغانستان سے غیر ملکی افواج
نہیں جائیں گئی، اُس وقت تک یہ جنگ جاری رہے گی۔
 
امریکہ افغانستان کے اندر ایسے طالبان کو تربیت دے رہا ہے، جو پاک فوج کے خلاف کارروائیاں کر
رہے ہیں اور انہیں وسیع پیمانے پر اسلحہ اور پیسہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
میں نے نیک محمد کا واقعہ بھی لکھا، جس میں اس نے ہتھیار پاکستانی سکیورٹی
فورسز کے سپرد کرتے وقت بہت سے بیگ کھول رکھے تھے اور نشاندہی کرتے ہوئے
بتایا کہ ”آپ یہ اسلحہ دیکھ لیں، کہاں کا بنا ہوا ہے؟ اور مزید تصدیق کیلئے
یہ نوٹ دیکھ لیں کہ یہ کس ملک کی کرنسی ہے؟ ظاہر ہے وہ نوٹ امریکی ڈالر
تھے اور یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستانی فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے جن
طالبان نے ہتھیار ڈالے، ان میں سے بھی بیشتر کو ہلاک کر دیا گیا۔ آج
پاکستان میں امریکیوں کی دہشتگردی کے منصوبوں کے حقائق سامنے آنے لگے ہیں۔ 

افغانستان میں امریکہ کا ایک واضح کردار ہے، جس کے تحت وہ پاکستان دشمن دہشتگردوں کو
فروغ اور امداد دے رہا ہے۔ جو پاکستان کے اندر تحریب کاریاں کریں۔ یہ کام
2002ء میں افغانستان پر قبضہ کرتے ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ
تھا کہ اسلام کے نام پر ایسے ہی گروہ تیار کئے جائیں جو پاکستانیوں کو اتنی
بڑی تعداد میں ہلاک کریں کہ اس کے ردعمل میں افغان دہشتگردوں اور کشمیری
مجاہدین کے خلاف عوامی دباو پیدا ہو، تاکہ پاکستان کیلئے آزادی کی ان دونوں
جنگوں میں مدد دینا مشکل ہوتا جائے۔
 
امریکہ کا ایک مقصد پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متاثر کرنا تھا، تاکہ پاکستان کشمیر پر اپنے موقف سے
پسپائی پر مجبور ہو جائے اور یہ مسئلہ اس طرح سے حل ہو کہ بھارت خطے میں
غلبہ پرستانہ علاقائی کردار ادا کر سکے اور پاکستان کی فوج اور ایجنسیوں کا
کردار محدود کر دیا جائے۔ وہ پاکستانی سیاست میں بھی اثر و رسوخ بڑھانا
چاہتا تھا اور میڈیا میں بھی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکہ کا واحد ایجنٹ
نہیں، جسے پاکستان میں پروان چڑھایا گیا۔ وطن کے ساتھ غداری سے بڑا جرم اس
نے یہ کیا کہ اپنے پیشے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے جعلی پولیو ویکسین کا
اپنے ہم وطن بچوں پر استعمال کیا اور نہ جانے کتنے بچوں کی زندگیاں خطرے
میں ڈال دیں۔؟
 
امریکہ نے بڑی تعداد میں بھارتی ایجنٹوں کو اپنی مدد کیلئے افغانستان بلایا، تاکہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کیلئے ان کی
مہارتوں سے استفادہ کیا جائے۔ امریکی طالبان ان گنت پاکستانیوں کے قاتل ہیں
اور سارے امریکی طالبان پاکستان کے خلاف ہیں۔ اس کیلئے سی آئی اے اور
بھارتی جاسوسوں نے ان پاکستانی قبائلیوں کو بھرتی کیا، جنہیں افغانستان اور
امریکہ میں دو سال تربیت دی گئی اور یہ لوگ جدید ترین ہتھیاروں اور بھاری
رقوم کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے۔ دو سال پہلے کے یہ گمنام لوگ معروف
دہشتگردوں کی حیثیت سے پاکستان میں لوٹے اور ان کا پہلا بڑا کارنامہ چینی
انجینئروں کو اغوا اور ہلاک کرنا تھا۔ 

چینی انجینئر اس لیے اغوا کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کا قریبی دوست ہے اور چین ان پالیسیوں پر گہری
نظر رکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ امریکی طالبان ہی اغوا کی وارداتیں کروا رہے
ہیں۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ ہی یہ سارے کام کروا رہا ہے۔ پاکستانی
قبائلیوں کو گمراہ کرکے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا سلسلہ ایک عرصے سے
جاری ہے۔ امریکی طالبان کو افغانستان کی مدد سے مسلسل سپلائی آتی ہے۔
البتہ افغان طالبان اس گروپ کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ امریکی
طالبان بنانے کا مقصد واضح ہے کہ اگر پاکستان مذہبی گروہوں کو افغانستان
اور کشمیر میں استعمال کر سکتا ہے، تو پاکستانی طالبان کے خودکش حملہ آوروں
کو پاکستان کے خلاف کیوں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔؟ 

2006ء سے پاکستان کے کئی شہروں میں ان خودکش حملہ آوروں کو استعمال کیا گیا۔ مسجدوں
اور خانقاہوں کو خصوصی نشانہ بنایا گیا۔ نوجوان پاکستانی لڑکوں کو بتایا
گیا کہ وہ پاکستان میں موجود امریکیوں سے لڑنے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں
وہ پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ پاکستانی فوج کی طرف سے 2008ء میں
امریکی نمائندوں کو باضابطہ طور پر بتایا گیا تھا کہ امریکہ طالبان کی
سرپرستی کر رہا ہے۔ 2009ء میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے بھی لیون
پینٹا سے یہی شکایت کی اور متعدد حملوں کی تفصیلات بتائیں۔ 

عالمی اسٹریٹجک ماہرین میں رائے ابھر رہی ہے کہ امریکہ پاکستان سے خطے میں اپنے
تیار کردہ ڈیزائن کے مطابق کام لینے کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کر رہا
ہے۔ گزشتہ چھ ماہ سے ایک اتحادی کو جس طرح ہراساں اور نقصان پہنچانے کی
دانستہ کوشش کی جا رہی ہے، اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے
دفاعی نظام کو مسلسل نقصان پہنچانے کیلئے کوشاں ہے۔ اب یہ حقیقت واضح ہو
چکی ہے کہ ایبٹ آباد کا حملہ پاکستان کو دھوکہ دے کر کیا گیا۔
 
اُسامہ بن لادن کے بارے میں پاکستان امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا
رہا، انہیں میں سے کچھ معلومات اُسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں مدد گار
ثابت ہوئیں۔ لیکن پاکستان کا فراہم کردہ ایک سراغ ہاتھ لگتے ہی امریکہ نے
ازخود آپریشن کی تیاریاں شروع کر دیں اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو
اندھیرے میں رکھا اور ایک ایسا آپریشن کر ڈالا، جو پاکستان کی سکیورٹی
فورسز کیلئے حیران کن اور باعث شرم تھا۔
 
یہ پاکستان کے دفاعی نظام کی کمزوری نہیں، بلکہ ایک دوست کی دغابازی اور فریب کاری تھی جو کہ
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہونے کا دعویدار تھا لیکن در پردہ وہ اپنے
ہی اتحادی کا وقار مجروح کرنا چاہتا تھا۔ اس کے بعد سلالہ چیک پوسٹ پر
قاتلانہ حملہ ایسی دانستہ کوشش تھی جس کا مقصد پاکستانی افواج اور عوام کو
مشتعل کرنا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکیوں نے اپنی یکطرفہ کارروائیوں
کے ذریعے پاکستان کو مجبور کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ جذبات میں آکر کوئی
غلط اقدام کر بیٹھے۔ جس کی آڑ میں امریکہ اپنے حقیقی عزائم پورا کرنے کی
پالیسی پر عمل کر سکے۔
 
پاکستان ابھی تک جوابی اشتعال انگیزی سے گریز کر رہا ہے، لیکن بد قسمتی سے ہمارے اہل سیاست وطن عزیز کی طرف بڑھتے
ہوئے خطرات کو دیکھ کر اپنے طرزعمل میں مطلوبہ تبدیلی لانے میں ناکام ہو
رہے ہیں۔ ورنہ یہ ایسا وقت ہے کہ تمام سیاستدان امریکی جارحیت کے بڑھتے
ہوئے خطرے کو دیکھ کر قومی یکجہتی پیدا کرنے پر توجہ دیں اور ایک متفقہ
موقف اختیار کرکے امریکی سازش کا سامنا کریں۔ ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ
امریکہ پاکستانی فوج کو اپنے مقاصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگا
ہے۔
 
اب یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ پاکستان میں فیصلہ سازی کا مرکز پارلیمنٹ اور منتخب حکومت کی طرف منتقل ہو جائے۔ گزشتہ چار سال سے فوج نے
اپنے آپ کو اس معاملے میں پیچھے رکھنا شروع کر دیا ہے، لیکن ابھی تک منتخب
حکومت کے پوری طرح مقتدر ہونے کا تاثر پیدا نہیں کیا جاسکا۔ جس کی ایک وجہ
خود منتخب حکومت اور اپوزیشن کی باہمی تصادم پر مبنی پالیسیاں ہیں۔ ہمیں
ماضی کے تلخ تجربات کو فراموش کرکے جلد از جلد ایک نئے دور کا آغاز کر دینا
چاہئے۔


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-09-22, 7:11 AM | Message # 4
Forum: فیشن اور بیوٹی ٹپس | Thread: چہرہ کی جلد پر دوائیوں کے مضر اثرات
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ جلد کی بیماری جسے طبی اصلاح میں Acne Vulgaris اور عرف عام میں کیل مہاسےکہتے ہیں بلوغت کی عمر میں اکثر خواتین اور حضرات اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک تکلیف دے بیماری ہے -
جس سے اسکی پیچیدگیوں‌کے علاوہ مریض نفسیاتی طور پر بھی متاثر ہوتا ہے –
ایک ڈاکٹر صاحب نے بتایا ۔۔
میں‌نے اپنی پریکٹس کے دوران یہ بات نوٹ کی ہے کہ جب اس بیماری کے مریض میرے پاس اتے ہیں‌ توجب ان سے دوائی کے بارے میں ‌پوچھا گیا تو تو بلا مبالغہ اکثریت کا یہ جواب ہوتا ہے کہ ھم نے فلاں کے کہنے پر ایک دوائی سٹیرائیڈز کے گروپ سے تعلق رکھتی ہے اور جس کا تجارتی نام‌ بینٹوویٹ Betnovate کریم ہے-
کافی عرصہ استعمال کی ہے اور جب پوچھا جاتا ہے کہ کوئی فائدہ ہو تو جواب ملتا تھا شروع میں افاقہ ہوا لیکن بعد میں تکلیف بڑھ گئی۔
اسی طرح ایک رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین جلد خصوصاً چہرے کو گورا کرنے کے لیے اس دوا کو مختلف کریموں می‌ملا کر لگاتی ہیں-
مندرجہ بالہ ہر دو قسم کے رجحانات انتہائی خطر ناک ہیں جن کا کیل مہاسوں کے علاج اور جلد گورا کرنے سے دور کا بھی تعلق نہیں‌ -

تحقیق کی روشنی میں سٹیر ائیڈیا کریم کے مضر اثرات -
1– ایسی دوائیں جلد کی وقت مدافت کم کرتی ہے
2– کیل مہاسے سےاہر قسم کے انفیکشن کو پھیلانے میں‌مدد کرتی ہے
3– اس دوا سے استعمال سے جلد سکڑ جاتی ہے
4– جلد پرجھریوں‌ اور بڑھاپے کے آثار جلد ظاہر پونا شروع جاتے ہیں
5– جلد کی باریک خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں اور چہرے پر سرخی رہنے لگتی ہے اور جلد حساس ہو جاتی ہے-
6– اسی دواؤ کے استعال سے چہرے پر غیر ضروری بال نمودار ہو جاتے ہیں-
7– چہرے پر سوجن ہو جاتی ہے -
ایسی دوائیں استعمال سے بہتر ہے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں‌اور علاج کروایا جائے اور مزید پیچیدگیوں سے بچا جائے -


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-09-22, 7:10 AM | Message # 5
Forum: فیشن اور بیوٹی ٹپس | Thread: ماسک کا استعمال
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
خوبصورت نظر آنے کی خواہش ہر انسان میں موجود ہوتی ہے ۔ اور ہر کسی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ پر کشش ، با وقار اور جاذب نظر دکھائی دے ، اپنی اسی خواہش کی تکمیل کے لئے وہ طرح طرح کے جتن کرتا ہے ۔ خواتین خاص کر لڑکیوں میں تو یہ خواہش زیادہ ہوتی ہے ۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر ایک کی جلد مختلف ہوتی ہے ۔ نارمل جلد کے لئے انڈے کا ماسک مفید رہتا ہے ۔
انڈے کا ماسک بنانے کا طریقہ ۔۔۔ ۔۔
ایک عدد انڈا لیں اور اس میں سفیدی اور زردی کو الگ کر دیں ۔ سردیوں میں زردی میں چند قطرے لیمو ں کا رس ملائے اور گرمیوں میں سفیدی میں آدھے لیموں کا رس ملا کر اچھی طرح پھینٹ لیں ، ماسک تیار ہے اب اسے پورے چہرے پر آنکھیں چھوڑ کر لگائیں ۔ اگر بچ جائے تو دوسری مرتبہ بھی لگا ئیں ، گردن کو نہ بھولیں ۔ یہ ماسک گردن تک لگنا چاہیئے ۔ آدھے گھنٹے بعد گرمیوں میں ٹھنڈے پانی سے اور سردیوں میں نیم گرم پانی سے چہرہ اچھی طرح دھو لیں اور کوئی اچھا سا سکن فرشنرروئی کی مدد سے چہرے پر لگائیں ۔

انسانی جلد میں ایسے غدود موجود ہوتے ہیں جو مخصوص رطوبت خارج کرتے ہیں جس سے جلد کو مناسب چکنائی ملتی رہتی ہے لیکن بعض اوقات چند وجوہات کی بنا پرغدود زیادہ رطوبت خارج کرتے ہیں ، ایسا عام طور پر نو جوانی کے دور میں ہوتا ہے کیوں کہ اس وقت ہارمون میں تبدیلی ہو رہی ہوتی ہے ۔
زیادہ رطوبت خارج ہونے کی وجہ سے جلد چکنی ہو جاتی ہے اور گرد و غبار وغیرہ جلد جذب کر لیتی ہے جس کی وجہ سے جلد میں انفکشن پھیل جاتی ہے اور کیل مہاسے نکل آتے ہیں ۔
ان لوگوں کو چاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ صابن سے چہرہ دھوئیں اور وہی صابن استعمال کریں جو ان کی جلد کے لئے مناسب ہو۔ ان لوگوں کو ملتانی مٹی کا ماسک استعمال کرنا چاہئیے یہ ماسک دانوں والی اور چکنی جلد کے لئے بہترین ہے اور چہرے سے زائد چکنائی کو جذب کر لیتا ہے ، یوں کافی دنوں تک چہرہ تر و تازہ رہتا ہے ۔

ملتانی مٹی کا ماسک بنانے کا طریقہ ۔۔۔
ملتانی مٹی چار بڑے چمچے ۔ لیموں کا رس ایک بڑا چمچہ ۔ ہلدی ایک چھوٹی چمچی ۔ انڈے کی سفیدی دو بڑے چمچے ۔ ان تمام اشیاء کو ملا کر آمیزہ بنا لیں اور چہرے پر لیپ کر دیں ۔ اور آنکھوں پر کھیرے کی قاشیں کاٹ کر رکھیں اور ایک گھنٹے تک اسے سوکھنے دیں ، جب اچھی طرح سوکھ جائے تو سادے پانی سے چہرہ دھو لیں ۔ پھر اس کے بعد چہرے پر سکن رفریشنرلگائیں ۔

خشک جلد کے لئے شہد کا ماسک ۔۔۔ ۔
خشک جلد پر جھریاں جلد پڑ جاتی ہیں ، اس کے لئے اس کو چکنائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسی جلد کے لئے شہد کا ماسک مفید ہے جس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے ۔
شہد ایک بڑا چمچہ ۔ زیتون کا تیل ایک بڑا چمچہ ، لیموں کا رس چند قطرے ۔
ان تینوں چیزوں کو ملا کر اچھی طرح پھینٹیں اور پھر پورے چہرے پر ایک لیپ کر دیں ۔ اگر مواد بچ جائے تو دوسرا لیپ بھی کر دیں ۔ یہ کم از کم ایک منٹ تک آپ کے چہرے پر لگا رہنا چاہیئے پھر نیم گرم پانی سے دھولیں اور سکن فرشنر لگائیں ۔ یہ عمل آپ کو ہر ہفتہ کرنا ہے ، یوں جلد تازہ نظر آتی ہے ۔

مندرجہ بالا ماسکوں میں قدرتی اشیاء استعمال ہوتی ہیں لہذا انسانی جلد کو ان سے کوئی قطرہ نہیں


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-09-22, 7:08 AM | Message # 6
Forum: فیشن اور بیوٹی ٹپس | Thread: سولہ سنگھار
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
پرانے زمانے کی عورتیں کہا کرتی تھیں کہ "سولہ سنگھار" ہی عورت کا اصل روپ ہے ورنہ عورت ، عورت نظر نہیں آتی۔ ہوتا یوں تھا کہ عورتیں صبح سویرے اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے ہی سنگھار میں جٹ جاتی تھی۔ ان کا خیال تھا چونکہ بیشتر چیزیں سہاگ سے تعلق رکھتی تھیں جیسے مرد کی لمبی عمر ، مرد کی زندگی کا ثبوت ، مرد کی خوش حالی وصحت و تندرستی کا ضامن وغیرہ اس لئے عورت جب بھی فرصت پاتی سنگھار میں کھو جاتی تھی۔
چلئے میں بتاتی چلوں سولہ سنگھار کیا ہے یعنیٰ کہ وہ سولہ چیزیں جو سنگھار میں شامل ہیں اور سانس کے ساتھ ہر سہاگن کے ساتھ جوڑی ہوتی ہیں لیکن میری معلومات کے دائرے اور جانکاری 16 سے تجاوز کر جاتی ہیں جو یہاں درج کر رہی ہوں چلئے سر سے شروع کرتی ہوں پیر کی انگلیوں تک ان کے نام ہیں:
1 ٹیکہ
2 جھومر
3 ناک کی دال
4 کان کی بالیاں (جھمکا یا کچھ اور)
5 ڈنڈ پڑی
6 کہنی کے کڑے
7 بھٹہ یعنی (کان کی لولکی میں جھمکے کے علاوہ کانکی ڈنڈی پر بھی دو سوراخ ہوا کرتے تھے جس میں دو پھول نما زیور پہنے جاتے تھے)
8 کلائی کے کڑے
9 کلائی کی چوڑیاں
10آرسی
11 انگوٹھیاں
12 گلے کا زیور کالی پوت (جس کے بغیر سہاگن کھانا نہیں کھایا کرتی تھیں)
13 کمر پٹہ کمر کا بیلٹ(چاندی یا سونے کا)
14 لونگ کا جھیلہ اور کنجیوں کا جھیلہ
15 پیر کے ٹخنوں کے کڑے(اکثر چاندی کے)
16 پیر کی جھانجر( پازیب یا چین)
17 انگوٹھے کی پٹی( پیر کے)
18 پیر کی انگلیوں کی پٹیاں (بچھوے)
19 چوٹی کے پھول جو سونے کے ہوتے تھے
دوسری خواتین پھول نما استعمال کرتی تھیں جو سہاگ کی اہم چیز مانی جاتی تھیں۔
یوں تو مہندی اور مسی بھی سہاگ اور سنگھار میں شامل ہیں لیکن یہ زیور نہیں۔ نہ جانے ان کے استعمال اور سجاوٹ میں کتنا وقت لگتا ہوگا یہ سوچ کر آج کے دور کی عورت حیرت زدہ ہوکر کہتی ہوگی:


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-09-22, 7:07 AM | Message # 7
Forum: فیشن اور بیوٹی ٹپس | Thread: خوب صورت صحت مند بال
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن


بالوںکی خوب صورتی کا راز ان کے گھنے پن نرمی اور چمک میں مضر ہے اور یہ چمک بالوں کی صحت میںپوشیدہے ۔ صحت مند اگر اچھی طرح دھوئے جائیںتو ان میں چمک خود بخود پیدا ہو جاتی ہے اور اگر انہیں باقاعدہ اچھی طرح نہ دھو جائے تووہ بیمارہو جائیں گے کیوں کہ میل جلد پر اثر ڈالتاہے اور صحت مند بال صرف صحت اور صاف ستھری جگہ پر ہی اک سکتے ہیں یعنی ایسی جلد جس پر خشکی کا نام و نشاںبھی نہ ہو ۔
بال ہمیشہ وہی صحت مند ہوں گے جنہیں اپنی پوری خوراک ملتی رہی ہو ۔اگر باقاعدہ کنگھا کیا جائے اوران کی مالش کی جائے تودوران خون تیز ہو کر بالوںکو ا ن کی خورک مطلوبہ وٹامن خودبخود پہنچتا رہے گا ۔یہیں پہنچ کر آپ کی خوراک کا اثر آپ کے بالوںپر ظاہر ہوتا ہے ۔بالوں کی صحت کے لیے پروٹین بے انتہا ضروری ہے ۔انڈے کلیجی گردے کاجریں پھل اور ہری سبزیاں کھاتے رہنے سے اوردوسرے وٹامن خون میںشامل ہوتے رہنے سے بالوںکی خوب صورتی میں اضافی ہوتا ہے ۔
آپ بالوں میں چاہیے ہزار چیزیں لگائیںمگر ان سے فائدہ صرف وقتی ہی ہو گا ۔ویسے تو وقتی طور پر بے جان اوربے روح بالوں کیلییسر کیجلد کی مالش اکثر فائدہ دیتی ہے۔برش کرنا ہر قسم کیلیے بالوںکیلیے ضروری ہے ۔بال چاہیے خشک ہوںیا چکنے سیدھے ہوںیا لہردار ان کو صحت مند دیکھنے کی خواہش صرف اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہے کہ برش کرنے کے عمل کو اپنی زندگی کا ایک جزو بنا لیا جائے
برش کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بالوں کے ناہموار سرے اپنی جگہ پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ہر بال کے مختلف ریشے جو جڑ کے قریب توبال سے ملے ہوئے ہوتے ہیں لمبائی کی طرف جاتے ہوئے علیحدہ علیحدہ ہو جاتے ہیں ۔انہیںہموار کرنے کا واحد ذریعہ برش ہے ۔کھردرے اور خشک بال کسی بھی صور ت میں کنگھی میں نہیں سماتے وہ اسی عمل سے خوبصورت ہیں لیکن چند دن کی کوشش کافی نہیی ہو گی اسے زندگی کا لازمہ بن بنا لیا ہو گا
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ضرورت سے چکنے بالوںکو برش کرناخطر ناک ہے کیوںکہ اس سے تیل اور چربی کے غدود حرکت میں آجاتے ہیں ۔یہ ایک حقیقت ہے مگر برش نہ کرنے سے یہی تیل بالوں کی جڑوں میںجمع ہو کر کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے اس لیے برش ضر ور کر نا چاہیے ۔ہاں جب چکنائی برش سے پھیل کر بالوںمیں آجائے توبال دھوڈالیے۔
صحت مند بال دھونے سے یا شیمپو کرنے سے خودبخود مک اٹھتے ہیںلیکن بسا اوقات اچھے بھلے صحت مند بال بھی دھونے سے نہیں چمکتے ۔صرف اس لیے کہ بال صیحح طریقے سے دھوئے نہیں جاتے ۔بالوںکو دھونے کے لیے اول تو اچھی قسم کا شیمپو چاہیے ۔دوسری چیز بہت ساپانی ہے ۔تھوڑے سے پانی سے شیمپو کے ذرات بالوں میںباقی رہ جاتے ہیں اورنقصان پہنچاتے ہیں ۔بالوںمیںکبھی صابن استعمال نہ کریں
اکثر اوقات پانی کے بھاری ہونے کی وجہ سے یہ صابن بالوںمیں جم جاتا ہے اور بال تباہ ہو جاتے ہیں ۔خشک بالوں کے لیے کریم والے شیمپو ٹھیک رہتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق بال گرنے کی رفتار پچاس سے ستر کے درمیان میںہوتی ہے ۔ اگرآپ کو اپنے تکیے کپڑوں وغیرہ پر گرے ہوئے بال زیادہ مقدار میں دکھائی دیںتو سمجھ لیجیے کہ آپ گنجے پن کی طرف بڑھ رہے ہیں اس بیماری کو شروع سے ہی پکڑ لیجیے اوران ممکنہ اسباب کا پتا چلانے کی کوشش کر یں جن کے باعث آپ کیبال جھڑنے شروع ہوئے ہیں ۔گنجاپن ایک موروثی بیماری ہے مگر یہ قابل علاج مرض ہے ۔یہ مرض روکنے کے لیے ڈاکڑ سے بھی مشورہ کریں اور غذائی صورت حال بہتر کریںاور بال ہمیشہ میٹھے پانی سے دھوئیںکھارا پانی بالوںکے لیے مضر ہے ۔
بالوںکی دیکھ بھال میں ان کو بیماریوں سے بھی بچانا شامل ہے ۔بالوں میں خشکی سیک عام مرض ہے۔اس بیماری میںسر کی جلد پر چھوٹے چھوٹے سفید رنگ کے چھلکے سے پید ا ہو جاتے ہیںجو بالوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔خشکی پیدا ہونے کی کئی وجوہات بتائی گی ہیں ۔جن میں بہت عرصے تک جذباتی تناو میںمبتلا رہنا مناسب غذا کا جسم کے اند ر نہ پہنچنا بالوںکو ٹھیک خوراک کا فراہم نہ ہونا وغیرہ شامل ہے ۔اس لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ سر میں خشکی کس وجہ سے ہے ا ور اپنی مناسبت سے علاج کریں ۔


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-09-22, 7:05 AM | Message # 8
Forum: فیشن اور بیوٹی ٹپس | Thread: کیا آپ کے بال گر رہے ہیں؟ کیا آپ کے بال گر رہے ہیں؟
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
اگر بال گرتے ہیں تو اس کے لیے ایک گریلو نسخہ بہت آسان ہے۔

گرتے بالوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ سر میں زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ تک برش کریں بالوں کا رخ کمر کی طرف کر کے برش کرنا زیادہ بہتر ہے۔

سردیوں میں اگر سر میں زیتون یا بادام روغن استعمال کیا جائے تو اس سے بالوں کے بڑھنے کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔

اگر آپ کے بال ٹوٹتے ہیں تو آپ کو چاہیے کسی اچھے سے شیمپو یا صابن سے دھوئیں۔ پھر زیتون یا بادام روغن سے مالش کریں اور پھر پانچ گھنٹے کے بعد دھوڈالیں۔

ہفتے میں ایک بار یہ آمیزہ اپنے بالوں پر لگائیں۔ تھوڑا سا دہی انڈہ اور تھوڑی سی چینی تینوں کو باہم ملالیں اور بالوں میں لگائیں پندرہ منٹ بعد شیمپو کریں۔


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-09-22, 7:04 AM | Message # 9
Forum: فیشن اور بیوٹی ٹپس | Thread: آزمودہ بیوٹی ٹپس
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
چینی کو مکسی میں‌پیس کر ایک ڈبے مین رکھ لیں پھر ہر 4 یا 5 دن بعد منہ دھوتے ہوئے صابن لگا کے چٹکی بھر پسی ہوئی چینی لے کے فیس ہپے مساج کریں خاص کر وہاں یہاں بلیک ہیڈز ہوتے ہیں ہکلا مساج کرنے کے بعد دھو لین آپ دیکھیں گی کہ فیس ایسے لگے گا جیسے ابھی ابھی فیشل کروایا ہو بہت ہی صاف،۔،،،،


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:09 AM | Message # 10
Forum: اسلام | Thread: دشمنوں سے حفاظت کا مجرب نسخہ
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
اگر کسی کے دشمن بہت ہو ں یا وہ دشمنوں میں گھرا ہو اور اسے رات دن دشمنو ں کی طر ف سے تکلیف پہنچنے کا یقین ہو وہ شخص اس آیت کو ایک سو اکیس مر تبہ رات کو اسی قدر صبح کو سورج نکلنے سے پہلے پڑھے۔ انشاءاللہ کبھی کوئی دشمن کسی طر ح کی اذیت نہ دے سکے گا۔ آیت یہ ہے : بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمط وَاللّٰہُ اَعلَمُ بِاَعدَآئِکُم وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیا وَّکَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیرًا0 اگر معاملہ نہایت سنگین ہو تب سوا لاکھ مرتبہ آیت مذکو رہ کا ختم کرنا انشاءاللہ ایک ہی دن میں دشمنو ں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے عمل مجر ب ہے اگر ناجائز مقصد کے لئے کرے گا تو نقصان اٹھائے گا۔

ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:06 AM | Message # 11
Forum: اسلام | Thread: سفلی علم و جادو سے نجات
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
یہ عمل بہت مجرب ہے اوربااثر ہے معوذتین یعنی قل اعوذ برب الفلق اورقل اعوذ برب الناس اورقرآن پاک کی وہ آیتیںجن میں جادو کاذکر ہے جوذیل میں لکھی جاتی ہیں پاک کاغذ پرلکھیں اوربہتے ہوے پانی خواہ کسی کا ہو دریا یا ندی کاایک اوسط درجہ کی ٹھلیامنگاکر اس پانی میں یہ تعویذ ڈالیں جب حروف پانی میں گھل جائیں توتھوڑاساپانی اس مریض کوپلائیں اورتھوڑے سے ہاتھ پاوں دھلائیں اوربقیہ پانی سے غسل دیں مگر پانی زمین پر نہ گرے اورمستعملہ پانی زمین میں دفن کردیں یہ عمل ہفتہ کے ہفتہ کرناچاہئے اگرچہ چنددفعہ اس ترکیب سے کیاجائے تو انشاءاللہ جادو کابالکل اثرباقی نہ رہے گا۔
جن آیتوںمیں جادو کاذکرہے وہ یہ ہیں۔
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ فَغُلِبُواْ هُنَالِكَ وَانقَلَبُواْ صَاغِرِينَ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ قَالُواْ آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ فَلَمَّا أَلْقَواْ قَالَ مُوسَى مَا جِئْتُم بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللّهَ لاَ يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:06 AM | Message # 12
Forum: اسلام | Thread: آسیب کے اثرات سے نجات
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
اگر کوئی مکان یا مقام آسیب زدہ ہوتو سورۃ الزلزال (سورۃ نمبر 99) کو پاک صاف کاغذ پر لکھ کر آسیب زدہ مکان یا مقام پر رکھ دیا جائے ، انشاء اللہ العزیز آسیب کے اثرات ختم ہوجائیں گیں۔

ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:05 AM | Message # 13
Forum: اسلام | Thread: عمل برائے عزت و توقیر
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
عزت و توقیر کے لئے اس آیت کو گیارہ مرتبہ روزانہ پڑھ کر اپنے اُوپر پھونک ماریں
اول و آخر گیارہ بار درود شریف پڑھیں
آیت:۔
فَسُبحٰنَ الَّذِی بِیدِہ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیئٍ وَّاِلَیہِ تُرجَعُونَ ۔


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:03 AM | Message # 14
Forum: اسلام | Thread: پہاڑ جیسا قرض اتارنے کا عمل
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
جس کسی پر قرض ہو وہ ظہر کی نماز کے بعد سو مرتبہ یہ درود شریف پڑھے گا اللہ سبحان و تعالیٰ اسے ہر قسم کے قرض سے خواہ وہ کتنا بھی ہو اور کیسا بھی ہو اسے نجات دے دیتے ہیں۔ آزمودہ ہے۔
درودشریف یہ ہے:۔
اَللّٰھُمَّ صلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ وَبَارِک وَسَلِّم


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:03 AM | Message # 15
Forum: اسلام | Thread: میاں بیوی میں اتفاق کیلئے
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
اگر میاں بیوی میں نااتفاقی ہو جائے اور عورت چاہے کہ میاں سے اتفاق ہو یا مرد چاہے کہ بیوی سے اتفاق ہوجائے تو 1001 مرتبہ کسی بھی کھانے کی چیز پر یَاحَکِیمُ پڑھ کر دم کر لیں اور بدمزاجی کرنیوالے کو کھلا دیں تو انشاءاللہ فوراً اتفاق اور محبت پیدا ہو جائے گی۔

ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:01 AM | Message # 16
Forum: اسلام | Thread: دشمنوں سے حفاظت کا مجرب نسخہ
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
اگر کسی کے دشمن بہت ہو ں یا وہ دشمنوں میں گھرا ہو اور اسے رات دن دشمنو ں کی طر ف سے تکلیف پہنچنے کا یقین ہو وہ شخص اس آیت کو ایک سو اکیس مر تبہ رات کو اسی قدر صبح کو سورج نکلنے سے پہلے پڑھے۔ انشاءاللہ کبھی کوئی دشمن کسی طر ح کی اذیت نہ دے سکے گا۔ آیت یہ ہے : بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمط وَاللّٰہُ اَعلَمُ بِاَعدَآئِکُم وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیا وَّکَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیرًا0 اگر معاملہ نہایت سنگین ہو تب سوا لاکھ مرتبہ آیت مذکو رہ کا ختم کرنا انشاءاللہ ایک ہی دن میں دشمنو ں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے عمل مجر ب ہے اگر ناجائز مقصد کے لئے کرے گا تو نقصان اٹھائے گا۔

ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:01 AM | Message # 17
Forum: اسلام | Thread: سُورَة نِسَآ ءِ میں سخت سے سخت مرض کے لئے شفاء ہے
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
سخت سے سخت مر ض جس کے علاج میں ڈاکٹر و حکیم ناامید ہو چکے ہوں، ان کے لیے آیت کاایک ہزارمرتبہ عشاءکے بعد چراغ گل کر کے سربرہنہ تین سو دفعہ کھڑے ہو کر تین سو دفعہ دو زانوں سرنگوں بیٹھ کر سو دفعہ شمال کی طر ف منہ کر کے سو دفعہ جنو ب کی طر ف منہ اٹھا کر سودفعہ دو زانو ں سرنگوں بیٹھ کر سو دفعہ شمال کےطرف منہ کر کے سو دفعہ سجدہ میں جا کر پڑھنا اکسیر اعظم ہے آیت شریف یہ ہے۔ بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم0 وَسئَلُو اللّٰہَ مِن فَضلِہ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیئٍ عَلِیمًا 0
اطلا ع : مریض خود پڑھے یا اس کا کوئی رشتہ دار سات دن تک برابر پڑھے جمعہ المبارک سے شروع کریں ہر روز ختم کے بعد مریض کے لیے شفا کی دعا کر نا مجرب ہے۔


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: جمعہ, 2012-07-27, 9:00 AM | Message # 18
Forum: اسلام | Thread: استخارہ کیا ہے ؟
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
استخارہ کا مطلب «خير کي طلب کرنا» ہوتا ہے. شريعت کے پابند لوگوں کے درميان يہ رسم بن چکي ہے کہ جب ايک انسان کسي کام کو انجام دينے کے بارے ميں، اس شعبہ سے متعلق افراد سے مشورت کرنے کے بعد اور تمام مثبت اور منفي جوانب کو مدنظر رکھ کر کے بھي ابھي، اس کام کو انجام دينے کے بارے ميں تحير کا شکار ہو اور اس کام کو انجام دينے يا اس کو ترک کرنے کے بارے ميں مردد ہو تو استخارے کے ذريعہ جو ايک قسم کا اللہ تعالي سے مشورہ لينا ہوتا ہے، اپنے اس کام کے بارے ميں اپنے تحير اور ترديد کو ختم کرتا ہے. استخارے کي مختلف قسميں ہيں جن ميں سے سب سے زيادہ معتبر استخارہ ذات الرقاع ہے.

ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-03-10, 7:46 AM | Message # 19
Forum: گھر اور گھرداری | Thread: ٔرس ملائی
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
اجزا:
دودھ ڈیڑھ لیٹر
میدہ ایک کھانے کا چمچ
ملک پاؤڈر ایک پیالی
تیل ایک کھانے کا چمچہ
بیکنگ پاؤڈر آدھا کھانے کا چمچہ
انڈہ ایک عدد
چینی ایک پیالی
الائچی پسی ہوئی ایک چائے کا چمچ
بادام کٹے ہوئے آدھی پیالی
چاندی کے ورق حسب ضرورت

ترکیب:
دودھ کو ایک ابال دے کر اس میں چینی اور الائچی پاؤڈر ڈال کر دھیمی آنچ پر پکنے دیں، پھر ملک پاؤڈر میں تیل ، انڈہ ، میدہ اور بیکنگ پاؤڈر اچھی طرح مکس کر کے چھوٹی چھوٹی گولیاں بنالیں۔ گولیاں چھوٹی ہی بنانی ہوگی ، کیونکہ یہ دودھ میں گرم ہو کر پھول جاتی ہیں۔
گولیاں تیار کر کے فریج میں رکھ دیں ۔ پکنے کے بعد دودھ کی مقدار جب کچھ کم ہو جائے تو اس میں احتیاط کے ساتھ یہ گولیاں ڈال دیں اور دھیمی آنچ ہی پر پکنے دیں۔ اس دوران برتن پکڑ کر احتیاط سے ہلائيں۔ اس میں چمچ نہیں چلانا ہے ، ورنہ رس ملائی ٹوٹ جائے گی۔ جب دودھ گاڑھا ہو جائے اور گولیاں پھول کر بڑی ہو جائیں تو ان کو کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دیں، پھر چاندی کے ورق اور پستہ ، بادام ڈال کر فریج میں رکھدیں


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-03-10, 7:45 AM | Message # 20
Forum: گھر اور گھرداری | Thread: فرائی فِش
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
اجزاء۔

مچھلی ۔ ایک کلو ( فرائی کرنے کے لیئے ٹکڑے بنوا لیں )
لال مرچ پسی ہوئی ایک کھانے کا چمچ یا حسبِ ذائقہ۔
نمک حسبِ ذائقہ۔
پسا ہوا لہسن 2 کھانے کے چمچ ۔
سرکہ 3 سے 4 کھانے کے چمچ۔
اجوائن ایک چائے کا چمچ باریک پاؤڈر یا پیسٹ۔
بیسن آدھا پاؤ۔
آئل حسبِ ضرورت۔

ترکیب۔
سب سے پہلے مچھلی کو نمک اور سرکہ لگا کر 15 سے 20 منٹ کے لیئے رکھ دیں اور پھر اچھی طرح دھو لیں۔اب لہسن ،اجوائن ، نمک اور مرچ کو اچھی طرح مچھلی کے ٹکڑوں پر لگا دیں۔اب ایک بڑی پلیٹ میں مصالحہ لگی مچھلی کے ٹکڑے اس طرح رکھیں کہ ٹکڑے آپس میں جڑے رہیں اب مچھلی کو کم از کم 2 گھنٹے کے لیئے فریج میں میرینیٹ ہونے کے لیئے رکھ دیں تا کہ مچھلی کا زائد پانی نکل جائے۔اب بیسن میں حسبِ ذائقہ نمک اور تھوڑی سی پسی ہوئی لال مرچ ملا کر آمیزہ بنا لیں ۔زیادہ گاڑھا آمیزہ نہ ہو۔آئل گرم کرکے مچھلی کے ٹکڑوں کو بیسن میں ڈبو کر درمیانی آنچ پر دونوں طرف سے گولڈن براؤن فرائی کرلیں۔


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-03-10, 7:43 AM | Message # 21
Forum: گھر اور گھرداری | Thread: چکن آلمنڈ سوپ
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
پیاز-2-3
ہری مرچ-5
شملہ مرچ-2-3
چکن -آدھ کلو بون لیس کیوبز
چکن یخنی-6کپ
بادام-اکپ ابلے ہوئے،چھلکا اتار لیں
نمک-حسب پسند-کالی مرچ-ا ٹی سپون
چینی-ا ٹیبل سپون
سرکہ-3 ٹیبل سپون
کالی مرچ-اٹی سپون
اجینو موتو-اٹی سپون
سویا سوس-3 ٹیبل سپون
آئل-آدھا کپ
کارن فلور-2 سے 3 ٹیبل سپون تھوڑی سییخنی میں گھول لیں

ترکیب

ابلے بادام چھیل کر 2 چمچ آئل میں تل لیں لائٹ براون کر کے نکال لیں

اب باقی آئل میں چکن ڈال کر وائٹ کریں تیز آنچ پر 3 سے 5 منٹ

اب پیاز شملہ مرچ سبز مرچ اور تمام ااجزا کارن فلور کے علاوہ ڈال کر یخنی شامل کر دیں

5 منٹ پکنے دیں درمیانی آنچ پر

اب کارن فلور پیسٹ ڈال کر مناسب گاڑھا کر لیں اور بادام ڈال کر سرو کر


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-03-10, 7:43 AM | Message # 22
Forum: گھر اور گھرداری | Thread: مچھلی بھرے پراٹھے
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
[r]اجزاء۔
مچھلی آدھا کلو۔آٹا حسبِ ضرورت۔پیاز باریک کتری ہوئی ایک عدد۔لہسن کا پیسٹ ایک چائے کا چمچ۔ادرک کا پیسٹ ایک چائے کا چمچ۔ہری مرچ باریک کٹی ہوئی پانچ عدد۔کالی مرچ پانچ دانے۔تیزپات ایک عدد۔نمک حسبِ ذائقہ۔لیموں کا رس دو کھانے کے چمچ۔ہرا دھنیا باریک کٹا ہوا تھوڑا سا۔آئل حسبِ ضرورت۔

ترکیب۔
مچھلی کو کالی مرچ،تیز پات،لیموں کارس ڈال کر اُبال لیں،جب مچھلی گل جائے تو کانٹے نکال لیں اور اچھی طرح میش کر لیں،اور تمام مصالحے ڈال کر اچھی طرح ملا لیں،آٹا گوندھ کر پیڑے بناکے مچھلی کا آمیزہ بھر کر پراٹھے کی طرح روٹی بنا کے پہلے ہلکا سا سینک کر آئل ڈال کر فرائی کر لیں یا مکمل سینک کر گھی لگا کر کھائیں۔املی کی چٹنی یا لہسن کی چٹنی کے ساتھ اور مزے کر
یں۔[/r]


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-03-10, 7:41 AM | Message # 23
Forum: گھر اور گھرداری | Thread: حیدرآبادی بریانی
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
حیدرآبادی بریانی

چاول : 1 کیلو(باسمتی) صاف کر کے دس منٹ کے لئے پانی میں بھگو دیں

گوشت : 1 کیلو ( بکری کا )

کچا پپیتا پیسٹ : 2 چائے کے چمچے

ادرک لہسن پیسٹ : دو بڑے چمچے

تیل : 2 پیالی درمیانے سائز کی

پیاز : 4 عدد درمیانی سائزکے (باریک لچھے دار کاٹ کر تیل میں ڈیپ فرائی کر لیں اورجب سنہری ہو جائے تو کسی پیپر پر پھیلا دیں )

گرم مسالہ پاؤڈر : 2 چائے کے چمچے ( الائچی ۔ لونگ ۔ شاہ زیرہ ۔ دارچینی )

ثابت گرم مسالہ : الائچی ۔ لونگ ۔ دارچینی ۔ شاہ زیرہ ۔ کباب چینی

نمک: حسب ذائقہ

لال مرچ : حسب ذائقہ

بالائی : 1 کھانے کا چمچہ

چیز [cheese] : ایک بڑا چمچہ

لیمو : 4 عدد ( رس نکال لیں )

ہرا دھنیا (کوتھمیر) : باریک کاٹ لیں

پودینہ : باریک کاٹ لیں

ہری مرچ : 4 سے 5 عدد

لہسن : 6 سے 7 جوئے

کاجو بادام : 8 سے 10 عدد

چرونجی : 2 چائے کے چمچے

زعفران : چند پتیاں ( آدھ پیالی دودھ میں بھگو دیں )

ترکیب :
گوشت کو صاف دھو لیں پھر پپیتا پیسٹ لگا کر 2 گھنٹے کے لئے رکھ دیں ۔
ہری مرچ، لہسن ، کاجو بادام ، چرونجی ، تھوڑا سا ہرا دھنیہ ، پودینہ اور ثابت گرم مسا لہ ڈال کر باریک پیسٹ بنا لیں ۔ ( پیسٹ بناتے وقت اس میں تھوڑا سا نمک بھی شامل کر لیں ۔)

اورپھر پپیتا لگے ہوئے گوشت میں ہری مرچ لہسن والا پیسٹ ، نمک ، مرچ ، ادرک لہسن پیسٹ، دہی اچھی طرح مکس کرکے مزید آدھے گھنٹے کے لئے رکھ دیں ۔

پھر اس گوشت میں فرائی کی ہوئی پیاز(آدھی)، تھوڑا سا ہرا دھنیہ ، پودینہ ،آدھا لیمو کا رس اور پیاز فرائی کرنے کے بعد جو تیل بچ رہتا ہے اسے گرم کر کے گوشت میں ڈال دیں ۔
اب چاول میں تھورا سا ثابت گرم مسالہ ، تھوڑا لیمو کا رس اور تھوڑی سی پیاز، اور نمک ڈال کر ایک کنی پر ابال لیں اور پانی نکال کرچاول گوشت پر ڈال دیں اوپر سے پاؤڈر گرم مسالہ ، بالائی ، لیمو کا رس ہرا دھنیہ ، پودینہ ، چیز، زعفران دودھ کے ساتھ اور بچی ہوئی پیازڈال کر 10 منٹ تیز آنچ پر پھر 20 منٹ دھیمی آنچ پردم دیں ۔
لیجئے بریانی تیار ہے ۔

*************

دہی کی چٹنی

دہی ۔۔۔ 500 گرام
نمک ۔۔۔ حسب ذائقہ
پودینہ ۔۔۔ ۔ تھوڑا سا باریک کٹا ہوا
ہری مرچ ۔۔۔ 2 عدد باریک کاٹ لیں
ہرا دھنیہ ۔۔۔ تھوڑا سا باریک کٹا ہوا
ٹماٹر ۔۔۔ ۔ آدھا (چھوٹے ٹکڑے کاٹ لیں)
کھیرا ۔۔۔ چھوٹے ٹکڑے کاٹ لیں
پیاز ۔۔۔ تھوڑی سی باریک کاٹ لیں

ترکیب :
دہی میں تھورا پانی ملا کر اچھی طرح پھینٹ لیں ۔ اب اس میں نمک ، ہری مرچ ، ہرا دھنیہ ، ٹماٹر، کھیرا ، پیاز ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں ۔ دہی کی چٹنی تیار ہے اسے بریانی کے ساتھ نوش فرمائیں ۔


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-03-10, 7:40 AM | Message # 24
Forum: گھر اور گھرداری | Thread: لوکی کی مزیدار سبزی
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن

لوکی کی مزیدار سبزی

ترکیب-دی مارننگ شیف-عدیل
مصالحہ فوڈ میگ

اجزا
لوکی-آدھ کلو
دودھ-آدھ پیالی
سرخ مرچ -1ٹی اسپون
رائی دانہ-1 ٹی اسپون
سفید زیرہ- 1 ٹی اسپون
چنے کی ابلی دال-1 ٹی اسپون
ماش کی ابلی دال- 1 ٹی اسپون
میتھی دانہ-آدھا ٹی اسپون
ہلدی- آدھا تی اسپون
کڑھی پتے- 6 عدد
ثابت لال مرچ- 6 عدد
ہری مرچ-6 عدد
پیاز چوپڈ- 1 عدد
نمک-حسب زائقہ
تیل- حسب ضرورت

ترکیب
لوکی کے چوکور ٹکڑے کاٹ لیں
فرائنگ پین میں تیل گرم کریں
اس میں سب کچھ (علاوہ سرخ مرچ ہلدی نمک،دوددھ) ڈال کر ہلکی آنچ پر دس منٹ پکائیں
دس منٹ بعد ہلدی نمک سرخ مرچ شامل کر کے مکس کریں
5 منٹ بعد دودھ شامل کر کے ہلکی آنچ پر دودھ خشک ہونے تک پکائیں


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
lovelessDate: ہفتہ, 2012-03-10, 7:29 AM | Message # 25
Forum: گھر اور گھرداری | Thread: گولا کباب
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
اجزاء
قیمہ : 1 کیلو
ادرک لہسن پیسٹ : 2 کھانے کے چمچے
پیاز( باریک کٹی ہوئی) 2 عدد
نمک : حسب ذائقہ
لال مرچ: ( پسی ہوئی) حسب ذائقہ
سفید زیرہ: 1 چائے کا چمچہ
ثابت دھنیا: 1 چائے کا چمچہ
گرم مسالہ: پسا ہوا دو کھانے کے چمچے
کچا پپیتا پسا ہوا: دو کھانے کے چمچے
دہی: آدھی پیالی
تیل: آدھی پیالی

ترکیب : قیمے میں ادرک لہسن، نمک، لال مرچ، زیرہ، دھنیا، گرم مسالہ اور پپیتا ملا کر پیس لیں۔
دو سے تین گھنٹے فریج میں رکھنے کے بعد اس میں دہی اور دو کھانے کے چمچمے تیل شامل کر لیں۔ اب اس کے گولا کباب بنا کر سیخوں پر لگائیں اور لال ہونے تک سینک لیں۔ مزیدار گولا کباب تیار ہیں۔ گرم گرم نان یا چپاتی کے ساتھ سرو کری


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
Search: