IP

[ New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
Page 1 of 11
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات » مقام ابراہیم (مقام ابراہیم ۔ ۔ ۔ زمزم)
مقام ابراہیم
lovelessDate: اتوار, 2012-01-29, 8:34 AM | Message # 1
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 185
Status: آف لائن
مقام ابراہیم::

اس سے وہ اثری پتھر مراد ہےجس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر کرتے تھے ، بخاری شریف (397:2)کی حدیث میں مذکورہے کہ اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھا کر لاتے تھے ، اور ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے ، جب عمارت اونچی ہو گئی تو ابراہیم علیہ السلام یہ پتھر لائے اور اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے ، اسماعیل علیہ السلام پتھر دیتے تھے ، اور دونوں مل کر ( ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ) پڑھتے تھے ـ سورہ البقرہ کی آیت 125 میں اسی مقام کو مصلی بنانے کا حکم ہے ـ قرآن کریام اور صحیح حدیث میں مام ابراہیم کی بہت زیادہ فضلیت وارد ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جن تین باتوں میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کا شرف حاصل ہے ان میں ایک بات مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے کی ہے ـ ہتھر ابراہیم علیہ السلام کی انگلیوں کے نشان کی بات دو جاہلیت و اسلام دونوں میں تسلیم کی جاتی تھی ـ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اسی مقام سے حج کے لئے لوگوں کو پکارا تھا اور جن نے جواب دیا اسے حج کی سعادت حاصل ہوئی ـ

علماء کے اقوال اس سلسلہ میں مختلف ہیں کہ پتھر ابراہیم علیہ السلام کے عہد میں کہا تھا کہ مقام عہد نبوی اور عہد صدیقی تک بیت اللہ سے ملا ہوا تھا ـ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے موجودہ مقام پر رکھا ـ مصنف نے وضاحت کی ہے کے طواف کرنے والوں کی سہولت کے پیش نظر مقام ابراہیم کو اس کی موجودہ جگہ سے قدرے پیچھے کر سکتے ہیں ،جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کعبہ سے کچھ دور نصب کیا تھا ، ایسا سہولت کے پیش نظر کیا جائے گا ـ شریعت تنگی کو ختم کر کے لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنے کو اہمیت دی ہے ـ

مصنف نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ مقام چھونا اور اس سے برکت حاصل کرنا درست نہیں ، نبی ﷺ سے یہ ثابت نہیں ـ باب کے اختتام پر مصنف نے شیخ محمد ابراہیم رحمہ اللہ کے فتاوی و مکتوبات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب مقام ابراہیم کو مزید پیچھے مشرق کی طرف لے جانے پر علماء کا اتفاق نہ ہو سکا تو یہ طے پایا کہ اس کا جو ہیکل بنایا گیا ہے اسے چھوٹا کر دیا جائے اور اسی پر عمل ہوا ـ الحمد للہ

زمزم ::

زمزم اس کنوان کا نام ہے جو مسجد الحرام میں مقام ابراہیم سے 18 میٹر دوری پر جنوب میں واقع ہے ، '' زمزمہ '' مطلق آواز کو یا پانی کی آواز کو کہتے ہیں ـ مصنف نے ابن بری کے حوالہ سے زمزم کے بارہ نام ذکر کئے ہیں ـ بخاری شریف میں ابن عباس کی روایت موجود ہے جس میں زمزم کے وجود میں آنے کی انوکھی صورت کا بیان ہے ـ
مصنف نے ایک ذیلی عنوان کے تحت لکھا ہے کہ زمزم کا کنواں نبی ﷺ کے عہد میں عام کنوؤں کی طرف تھا ، اس پر نہ کوئی دیوار تھی نہ منڈیر ـ مصنف نے مختلف روایتوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عہد میں زمزم کے کنویں کے پاس دو حوض تھے ، ایک بیٹھ کر پانی پینے کے لیے اور دوسرا وضوء کے لئے ـ اسی طرح ایک سایہ دار چبوترہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک مجلس بھی تھی ـ مختلف ادوار میں زمزم کے کنویں پر تعمیر و تحسین کا سلسلہ جاری تھا ، کیونکہ حکام اور ان کے نائبین کی پوری توجہ اس بات پر ہوتی تھی کہ کعبہ اور مسجد الحرام ی ہر ممکن خدمت انجام دیں ـ
مصنف نے ان روایتوں کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ زمزم کو جس نیت سے پیا جائے اس میں مفید ہے ـ ابن القیم کے حوالہ سے مصنف نے لکھا ہے کہ ان کا اور دوسرے لوگوں کا بھی تجربہ ہے کہ زمزم کے پانی میں متعدد بیماریوں سے شفاء ہے ، اسی طرح اسمیں غذائیت بھی ہے کہ آدمی اس پر ایک ماہ سے زائد تک زندہ رہ سکتا ہے ، اس سلسلے میں مسلم نے عبد اللہ بن الصامت کی روایت ذکر کی ہے جس میں ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے ایک ماہ تک اسی پانی پر زندہ رہنے کا ذکر ہے ـ اور یہ وضاحت بھی ہے کہ جسم فربہ اور قوی تھا ـ مصنف نے زمزم سے متعلق باب میں ایک سرخی اس مضمون کی قائم کی ہے کہ روئے زمین پر سب سے بہتر کنواں زمزم کا ہے ـ زمزم کا پانی پینے کے آداب سے متعلق عنوان کے ذیل میں مصنف نے لکھا ہے کہ کسی امام کا یہ قول نہیں کہ کھڑے ہو کر زمزم پینے میں ثواب ہے ـ

مصنف نے ایک عنوان یہ قائم کیا ہے کہ زمزم کا پانی ساتھ لانا اور مکہ سے باہر کسی دوسرے شہر میں لے جانا سنت ہے ـ مہمان کو زمزم کا تحفہ دینا بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ـ اس باب کی آخری سرخی ہے '' زمزم پلانے کی فضیلت '' یعنی زمزم کا پانی حجاج اور دوسرے لوگوں کو فراہم کرنا ـ یہ بڑی نیکی ہے ـ ابن عباس رضی اللہ کی ایک روایت ہے کہ نبی ﷺ نے '' سقایہ '' پہنچ کر عباس رضی اللہ عنہ سے زمزم طلب کیا تو انھوں نے اپنے بھائی فضل سے کہا جاؤ اپنی ماں کے پاس سے رسول ﷺ کے لیے زمزم لے آؤ کیونکہ اس پانی میں لوگ ہاتھ ڈالتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو پلاؤ ، پھر آپ نے پانی پیا اور زمزم کے پاس آئے جہاں لوگ پانی پلانے کی خدمت انجام دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا کہ تم اپنا کام کرو ، یہ نیک کام ہے ، اگر مجھے تمہاری مغلوبیت کا خوف نہ ہوتا تو رسی اپنے کندھے پر رکھ کر ( میں بھی زمزم کھینچتا) ـ ( صحیح ابن خزیمہ 306/4 )

مصنف نے ایک سرخی اس مضمون کی قائم کی ہے کہ '' کیا زمزم کے پانی سے وضو اور غسل کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟ اس باب کے ذیل میں موصف نے متعدد علماء کے اقوال ذکر کئے ہیں اور جواز و عدم دونوں کے قول ذکر کئے ہیں ـ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں علماء کی آراء مختلف ہیں ـ ابوالطیب محمد بن احمد حسنی ( 775- 832 ھجری ) مکہ مکرمہ سے متعلق شفا الغرام اور العقد الشمین دو کتابوں کے مصنف ہیں ، ان کے حوالہ سے ڈاکٹر وصی اللہ لکھتے ہیں کہ '' ماء زمزم سے طہارے حاصل کرنا بااتفاق صحیح ہے جیسا کہ ماوردی نے اپنے فتاوی میں اور نووی نے شرح مہذب میں لکھا ـ محب طبری کا قول نقل کیا ہے کہ '' زمزم کے ذریعہ نجاست دور کرنا حرام ہے ـامام شافعی کا یہ مذیب ذکر کیا ہے کہ زمزم کے پانی سے غسل اور وضوء مستحب ہے ـ

مصنف نے شفاء الغرام ( 285/1) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ '' اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو زمزم کے پانی سے غسل دیا تھا ـ مصنف نے اپنا فیصلہ یوں دیتے ہیں کہ '' تحریم و کراہت شرعی تکلیف کے احکام میں سے ہے ، لہذا دونوں حکم بغیر دلیل ثابت نہ ہو سکیں گئے ، لیکن فاسی جا جن کا انہوں نے حوالہ دیا ہے انہوں نے کراہت یا تحریم کی کوئی دلیل ذکر نہیں کی ، لہذا قاعدہ کے مطابق زمزم کے پانی سے طہارے حاصل کرنا بغیر کراہت جائز ہو گا خصوصا جبکہ نبی ﷺ کا اس سےوضو کرنا ثابت ہو جیسا کہ مسند میں عبد اللہ بن احمد کی روایت سے ثابت ہے ، اس روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ڈول پانی کا منگایا ، اسے پیا اور وضو کیا الخ ـ

ڈاکٹر وصی اللہ نے بعض روایتیں اور اقوال ذکر کے لکھتے ہیں کہ : بعض آئمہ کے اقوال میں طہارے کے لیے آب زمزم کے استعمال کے مکروہ ہونے کی جو بات کہی گئی ہے وہ اختیار و استحسان ہے جسے شرعا تحریم یا کراہت کا درجہ نہیں دیا جا سکتاـ باجوری کے حاشیہ (28/1) سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ : زمزم کے پانی کا استعمال نجاست دور کرنے کے لیے بھی مکروہ نہیں ، ابتہ خلاف ادلی ہے ، جن لوگوں نے اس کی حرمت کو یقینی کہا ہے ان کا قول ضعیف بلکہ شاذ ہے ـ المنی لابن قدامہ ( 18/1) کے حوالہ سے لکھا ہے کہ : وضوء کے لئے جائز کہتے ہیں ، ان لا استدال عبدس بن عند المطلب کے اس قول سے ہے کہ '' لا احلہ لمغتسل ، ولکن لشارب حل وبال ـ'' یعنی میں اسے غسل کرنے کے لیے جائز نہیں سمجھتا ، البتہ پینے والے کے لئے حلال اور شفا ء ہے ( ص 439 )


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات » مقام ابراہیم (مقام ابراہیم ۔ ۔ ۔ زمزم)
Page 1 of 11
Search:


{\rtf1\ansi\ansicpg1252\deff0\deflang1033{\fonttbl{\f0\fswiss\fcharset0 Arial;}} {\*\generator Msftedit 5.41.15.1507;}\viewkind4\uc1\pard\f0\fs20\par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par }