IP

Quran Majeed With Urdu and English Translation

Main » Files » My files

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
2010-11-10, 7:52 AM


Bismi Allahi alrrahmani alrraheemi
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

Allah in the name of the most Affectionate the Merciful.
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف۱) - سورۃ النجم مکّیہ ہے ، اس میں تین۳ رکوع ، باسٹھ۶۲ آیتیں ، تین سو ساٹھ۳۶۰ کلمے ، ایک ہزار چار سو پانچ ۱۴۰۵حرف ہیں ۔ یہ وہ پہلی سورت ہے جس کا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اعلان فرمایا اور حرم شریف میں مشرکین کے روبرو پڑھی ۔

--------------------------------------------------------------------------------
1. Waalnnajmi itha hawa
1. وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰیۙ۝۱

1. By the lovely shining star Muhammad, when he descended from the Ascension (Meraj).
1. اس پیارے چمکتے تارے محمّد کی قسم جب یہ معراج سے اترے (ف۲)

(ف۲) - نجم کی تفسیر میں مفسّرین کے بہت سے قول ہیں بعض نے ثریّا مراد لیا ہے اگرچہ ثریّا کئی تارے ہیں لیکن نجم کا اطلاق ان پر عرب کی عادت ہے ۔ بعض نے نجم سے جنسِ نجوم مراد لی ہے ۔ بعض نے وہ نباتا ت جو ساق نہیں رکھتے ، زمین پر پھیلتے ہیں ۔ بعض نے نجم سے قرآن مراد لیا ہے لیکن سب سے لذیذ تفسیر وہ ہے جو حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے اختیار فرمائی کہ نجم سے مراد ہے ذاتِ گرامی ہادیِ برحق سیّدِ انبیاء محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ۔ (خازن)

--------------------------------------------------------------------------------
2. Ma dalla sahibukum wama ghawa
2. مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰیۚ۝۲

2. Your companion neither went astray nor misled.
2. تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے (ف۳)

(ف۳) - ''صَاحِبُکُمْ''سے مراد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کبھی طریقِ حق و ہدایت سے عدول نہ کیا ، ہمیشہ اپنے رب کی توحید و عبادت میں رہے ، آپ کے دامنِ عصمت پر کبھی کسی امرِ مکروہ کی گرد نہ آئی ۔ اور بے راہ نہ چلنے سے یہ مراد ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمیشہ رشد و ہدایت کی اعلٰی منزل پر متمکن رہے ۔ اعتقادِ فاسد کا شائبہ بھی کبھی آپ کے حاشیۂِ بساط تک نہ پہنچ سکا ۔

--------------------------------------------------------------------------------
3. Wama yantiqu AAani alhawa
3. وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰیؕ۝۳

3. And he speaks not of his own desire.
3. اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے


--------------------------------------------------------------------------------
4. In huwa illa wahyun yooha
4. اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰیۙ۝۴

4. That is not but the revelation that is revealed to him.
4. وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے (ف۴)

(ف۴) - یہ جملہ اولٰی کی دلیل ہے کہ حضور کا بہکنا اور بے راہ چلنا ممکن و متصور ہی نہیں کیونکہ آپ اپنی خواہش سے کوئی بات فرماتے ہی نہیں جو فرماتے ہیں وحیِ الٰہی ہوتی ہے اور اس میں حضور کے خُلقِ عظیم اور آپ کی اعلٰی منزلت کا بیان ہے ۔ نفس کا سب سے اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ وہ اپنی خواہش ترک کردے ۔(کبیر) اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام اللہ تعالٰی کے ذات و صفات و افعال میں فنا کے اس اعلٰی مقام پر پہنچے کہ اپنا کچھ باقی نہ رہا تجلّیِ ربّانی کا یہ استیلائے تام ہوا کہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ وحیِ الٰہی ہوتی ہے ۔ ( روح البیان)

--------------------------------------------------------------------------------
5. AAallamahu shadeedu alquwa
5. عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰیۙ۝۵

5. He was taught by one possessing mighty powers.
5. انہیں (ف۵) سکھایا (ف۶) سخت قوّتوں والے طاقتور نے (ف۷)

(ف۵) - یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ۔

(ف۶) - جو کچھ اللہ تعالٰی نے ان کی طرف وحی فرمایا ۔ اور اس تعلیم سے مراد قلبِ مبارک تک پہنچادینا ہے ۔

(ف۷) - بعض مفسّرین اس طرف گئے ہیں کہ سخت قوّتوں والے طاقتور سے مراد حضرت جبریل ہیں اور سکھا نے سے مراد بتعلیمِ الٰہی سکھانا یعنی وحیِ الٰہی کا پہنچانا ہے ۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ شَدِیْدُ الْقُوٰی ذُوْمِرَّۃٍ سے مراد اللہ تعالٰی ہے اس نے اپنی ذات کو اس وصف کے ساتھ ذکر فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی نے بے واسطہ تعلیم فرمائی ۔ (تفسیر روح البیان)

--------------------------------------------------------------------------------
6. Thoo mirratin faistawa
6. ذُوْ مِرَّةٍ ؕ فَاسْتَوٰیۙ۝۶

6. Possessor of strength. Then that splendid sight proceeded.
6. پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا (ف۸)

(ف۸) - عام مفسّرین نےفَاسْتَوٰی کا فاعل بھی حضرت جبریل کو قرار دیا ہے اور یہ معنٰی لئے ہیں کہ حضرت جبریلِ امین اپنی اصلی صورت پر قائم ہوئے اور اس کا سبب یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں ان کی اصلی صورت میں ملاحظہ فرمانے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی تو حضرت جبریل جنابِ مشرق میں حضور کے سامنے نمودار ہوئے اور ان کے وجود سے مشرق سے مغرب تک بھر گیا یہ بھی کہا گیا ہےکہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا کسی انسان نے حضرت جبریل کو ان کی اصلی صورت میں نہیں دیکھا ۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل کو دیکھنا تو صحیح ہے اور حدیث سے ثابت ہے لیکن یہ حدیث میں نہیں ہے کہ اس آیت میں حضرت جبریل کو دیکھنا مراد ہے بلکہ ظاہرِ تفسیر میں یہ ہے کہ مرادفَاسْتَوٰی سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مکانِ عالی اور منزلتِ رفیعہ میں استوٰی فرمانا ہے ۔ (تفسیر کبیر) تفسیرِ روح البیان میں ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے افقِ اعلٰی یعنی آسمانوں کے اوپر استوٰی فرمایا اور حضرت جبریل سدرۃ المنتہی پر رک گئے آگے نہ بڑھ سکے انہوں نے کہا اگر میں ذرا بھی آگے بڑھوں تو تجلّیاتِ جلال مجھے جَلا ڈالیں اور حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آگے بڑھ گئے اور مستوائے عرش سے بھی گزر گئے ۔ اور حضرت مترجِم قدّس سرّہ کا ترجمہ اس طرف مشیر ہے کہ استوٰی کی اسناد حضرت ربُّ العزّت عزَّ واعلٰی کی طرف ہے ، اور یہی قول حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
7. Wahuwa bialofuqi alaAAla
7. وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰیؕ۝۷

7. And he was on the highest horizon.
7. اور وہ آسمانِ بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا (ف۹)

(ف۹) - یہاں بھی عام مفسّرین اسی طرف گئے ہیں کہ یہ حال جبریلِ امین کا ہے لیکن امام رازی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ حال سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے کہ آپ افقِ اعلٰی یعنی فوقِ سمٰوات تھے جس طرح کہنے والا کہتا ہے کہ میں نے چھت پر چاند دیکھا پہاڑ پر چاند دیکھا اس کے یہ معنٰی نہیں ہوتے کہ چاند چھت پر یا پہاڑ پر تھا بلکہ یہی معنٰی ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا چھت یا پہاڑ پر تھا اسی طرح یہاں معنٰی ہیں کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام فوقِ سمٰوات پر پہنچے تو تجلّیِ ربّانی آپ کی طرف متوجّہ ہوئی ۔

--------------------------------------------------------------------------------
8. Thumma dana fatadalla
8. ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰیۙ۝۸

8. Then that splendid sight drew nearer, then he came close well.
8. پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا (ف۱۰)

(ف۱۰) - اس کے معنٰی میں بھی مفسّرین کے کئی قول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبریل کا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے قریب ہونا مراد ہے کہ وہ اپنی صورت اصلی دکھادینے کے بعد حضورِ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب میں حاضر ہوئے دوسرے معنٰی یہ ہیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرتِ حق کے قرب سے مشرف ہوئے تیسرے یہ کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا اور یہ ہی صحیح تر ہے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
9. Fakana qaba qawsayni aw adna
9. فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰیۚ۝۹

9. So there was a distance of two hands between the Splendid sight and the beloved (Prophet) but rather less than that.
9. پھر خوب اُتر آیا (ف۱۱) تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو (۲) ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم (ف۱۲)

(ف۱۱) - اس میں چند قول ہیں ایک تویہ کہ نزدیک ہونے سے حضور کا عروج و وصول مراد ہے اور اتر آنے سے نزول ورجوع تو حاصلِ معنٰی یہ ہے کہ حق تعالٰی کے قرب میں باریاب ہوئے پھر وصال کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر خَلق کی طرف متوجّہ ہوئے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت ربُّ العزّت اپنے لطف و رحمت کے ساتھ اپنے حبیب سے قریب ہو اور اس قرب میں زیادتی فرمائی تیسرا قول یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مقربِ درگاہِ ربوبیّت ہو کر سجدۂِ طاعت ادا کیا ۔ (روح البیان) بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ قریب ہوا جبّار ربُّ العزّت الخ ۔ (خازن)

(ف۱۲) - یہ اشارہ ہے تاکیدِ قرب کی طرف کہ قرب اپنے کمال کو پہنچا اور با ادب احبّاء میں جو نزدیکی متصور ہو سکتی ہے وہ اپنی غایت کو پہنچی ۔

--------------------------------------------------------------------------------
10. Faawha ila AAabdihi ma awha
10. فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰیؕ۝۱۰

10. Now He revealed to His bondman whatever He revealed.
10. اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی (ف۱۳)

(ف۱۳) - اکثر علماءِ مفسّرین کے نزدیک اس کے معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندۂِ خاص حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو وحی فرمائی ۔ (جمل) حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی یہ وحی بے واسطہ تھی کہ اللہ تعالٰی اوراس کے حبیب کے درمیا ن کو ئی واسطہ نہ تھا اور یہ خدا اور رسول کے درمیان کے اسرار ہیں جن پر ان کے سوا کسی کو اطلاع نہیں ۔ بقلی نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے اس راز کو تمام خَلق سے مخفی رکھا اور نہ بیان فرمایا کہ اپنے حبیب کو کیا وحی فرمائی اور محبّ و محبوب کے درمیان ایسے راز ہوتے ہیں جن کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ (روح البیان) علماء نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس شب میں جو آپ کو وحی فرمائی گئی وہ کئی قِسم کے علوم تھے ۔ ایک تو علمِ شرائع و احکام جن کی سب کو تبلیغ کی جاتی ہے دوسرے معارفِ الٰہیہ جو خواص کو بتائے جاتے ہیں تیسرے حقائق و نتائجِ علومِ ذوقیہ جو صرف اخصّ الخواص کو تلقین کئے جاتے ہیں اور ایک قِسم وہ اسرار جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے ساتھ خاص ہیں کوئی ان کا تحمّل نہیں کرسکتا ۔ (روح البیان)

--------------------------------------------------------------------------------
11. Ma kathaba alfuadu ma raa
11. مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی۝۱۱

11. The heart lied not in what he saw.
11. دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا (ف۱۴)

(ف۱۴) - آنکھ نے یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قلبِ مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔ معنٰی یہ ہیں کہ آنکھ سے دیکھا دل سے پہچانا اور اس رویت و معرفت میں شک وتردّد نے راہ نہ پائی اب یہ بات کہ کیا دیکھا بعض مفسّرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل کو دیکھا لیکن مذہبِ صحیح یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے رب تبارک و تعالٰی کو دیکھا اور یہ دیکھنا کس طرح تھا چشمِ سرسے یا چشمِ دل سے اس میں مفسّرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا قول ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رب عزَّوجلّ کو اپنے قلبِ مبارک سے دوبار دیکھا (رواہ مسلم) ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ نے رب عزَّوجلّ کو حقیقتہً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔ یہ قول حضرت انس بن مالک اور حسن و عکرمہ کا ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو خُلّت اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو کلام اور سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی کو اپنے دیدار سے امتیاز بخشا ۔ (صلوات اللہ تعالٌٰی علیہم) کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے دوبار کلام فرمایا اور حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ تعالٰی کو دو مرتبہ دیکھا ۔ (ترمذی) لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے دیدار کا انکار کیا اور آیت کو حضرت جبریل کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے اپنے رب کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور سند میں لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُتلاوت فرمائی ۔ یہاں چند باتیں قابلِ لحاظ ہیں ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا قول نفی میں ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کا اثبات میں اور مثبت ہی مقدم ہوتا ہے کیونکہ نافی کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا نہیں اور مثبت اثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم مثبت کے پاس ہے علاوہ بریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے یہ کلام حضور سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے اپنے استنباط پر اعتماد فرمایا یہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھاکی رائے ہے اور آیت میں ادراک یعنی احاطہ کی نفی ہے نہ رویت کی ۔ مسئلہ : صحیح یہ ہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دیدارِ الٰہی سے مشرّف فرمائے گئے ۔ مسلم شریف کی حدیثِ مرفوع سے بھی یہی ثابت ہے ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما جو بحرالامّۃ ہیں ، وہ بھی اسی پر ہیں ۔ مسلم کی حدیث ہے رَاَیْتُ رَبِّیْ بِعَیْنِیْ وَبِقَلْبِیْ میں نے اپنے رب کو اپنی آنکھ اوراپنے دل سے دیکھا ۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ قَسم کھاتے تھے کہ محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج اپنے رب کو دیکھا ۔ حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں حدیثِ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کا قائل ہوں حضو ر نے اپنے رب کو دیکھا اس کو دیکھا اس کو دیکھا ۔ امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں تک کہ سانس ختم ہوگیا ۔

--------------------------------------------------------------------------------
12. Afatumaroonahu AAala ma yara
12. اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰی مَا یَرٰی۝۱۲

12. Do you then dispute with him concerning what he has seen?
12. تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو (ف۱۵)

(ف۱۵) - یہ مشرکین کو خطاب ہے جو شبِ معراج کے واقعات کا انکار کرتے اور اس میں جھگڑتے تھے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
13. Walaqad raahu nazlatan okhra
13. وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰیۙ۝۱۳

13. And indeed, he saw that Splendid sight twice.
13. اور انہوں نے تو وہ جلوہ دو (۲) بار دیکھا (ف۱۶)

(ف۱۶) - کیونکہ تخفیف کی درخواستوں کے لئے چند بار عروج و نزول ہوا ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے رب عزَّوجلّ کو اپنے قلبِ مبارک سے دو مرتبہ دیکھا اور انہیں سے یہ بھی مروی ہے کہ حضور نے رب عزَّوجلّ کو آنکھ سے دیکھا ۔

--------------------------------------------------------------------------------
14. AAinda sidrati almuntaha
14. عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰی۝۱۴

14. Near the farthest Lote-tree.
14. سدرۃُ المنتہٰی کے پاس (ف۱۷)

(ف۱۷) - سدرۃ المنتہٰی ایک درخت ہے جس کی اصل (جڑ) چھٹے آسمان میں ہے اور اس کی شاخیں ساتویں آسمان میں پھیلی ہیں اور بلند ی میں وہ ساتویں آسمان سے بھی گزر گیا ملائکہ اور ارواحِ شہداء و اتقیاء اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں ۔

--------------------------------------------------------------------------------
15. AAindaha jannatu almawa
15. عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰیؕ۝۱۵

15. Near which is the Garden of Eternity.
15. اس کے پاس جنّت الماوٰی ہے


--------------------------------------------------------------------------------
16. Ith yaghsha alssidrata ma yaghsha
16. اِذْ یَغْشَی السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰیۙ۝۱۶

16. When that was covering the Lote-Tree, which was covering.
16. جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (ف۱۸)

(ف۱۸) - یعنی ملائکہ اور انوار ۔

--------------------------------------------------------------------------------
17. Ma zagha albasaru wama tagha
17. مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰی۝۱۷

17. The eye deviated not, nor crossed the limit.
17. آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی (ف۱۹)

(ف۱۹) - اس میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کمالِ قوّت کا اظہار ہے کہ اس مقام میں جہاں عقلیں حیرت زدہ ہیں آپ ثابت رہے اور جس نور کا دیدار مقصود تھا اس سے بہر ہ اندوز ہوئے ، داہنے بائیں کسی طرف ملتفت نہ ہوئے ، نہ مقصودکی دید سے آنکھ پھیری ، نہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرح بے ہوش ہوئے بلکہ اس مقام عظیم میں ثابت رہے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
18. Laqad raa min ayati rabbihi alkubra
18. لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰی۝۱۸

18. Certainly, he saw very big signs of his Lord.
18. بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں (ف۲۰)

(ف۲۰) - یعنی حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج عجائبِ مُلک وملکوت کا ملاحظہ فرمایا اور آپ کا علم تمام معلوماتِ غیبیہ ملکوتیہ پر محیط ہوگیا جیسا کہ حدیثِ اختصامِ ملائکہ میں وارد ہوا ہے اور دوسری اور احادیث میں آیا ہے ۔ (روح البیان)

--------------------------------------------------------------------------------
19. Afaraaytumu allata waalAAuzza
19. اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰیۙ۝۱۹

19. Have you then seen Lat and Uzza?
19. تو کیا تم نے دیکھا لات اور عُزّٰی


--------------------------------------------------------------------------------
20. Wamanata alththalithata alokhra
20. وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰی۝۲۰

20. And the third Manat?
20. اور اس تیسری منات کو (ف۲۱)

(ف۲۱) - لات وعزّٰی اور منات بتوں کے نام ہیں جنہیں مشرکین پوجتے تھے ۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے ان بتوں کو دیکھا یعنی بنظرِ تحقیق و انصاف اگر اس طرح دیکھا ہو تو تمہیں معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ محض بے قدرت ہیں اور اللہ تعالٰی قادرِ برحق کو چھوڑ کر ان بے قدرت بتوں کو پوجنا اور اس کا شریک ٹھہرانا کس قدر ظلمِ عظیم اور خلافِ عقل و دانش ہے اور مشرکینِ مکّہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ بت اور فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ اس پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
21. Alakumu alththakaru walahu alontha
21. اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰی۝۲۱

21. What! For you the males and for Him the females.
21. کیا تم کو بیٹا اور اس کو بیٹی (ف۲۲)

(ف۲۲) - جو تمہارے نزدیک ایسی بُری چیز ہے کہ جب تم میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہے اور رنگ تاریک ہوجاتا ہے اور لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے حتٰی کہ تم بیٹیوں کو زندہ درگور کر ڈالتے ہو پھر بھی اللہ تعالٰی کی بیٹیاں بتاتے ہو ۔

--------------------------------------------------------------------------------
22. Tilka ithan qismatun deeza
22. تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰی۝۲۲

22. Then this is an unfair division.
22. جب تو یہ سخت بھونڈی تقسیم ہے (ف۲۳)

(ف۲۳) - کہ جو چیز بُری سمجھتے ہو وہ خدا کے لئے تجویز کرتے ہو ۔

--------------------------------------------------------------------------------
23. In hiya illa asmaon sammaytumooha antum waabaokum ma anzala Allahu biha min sultanin in yattabiAAoona illa alththanna wama tahwa alanfusu walaqad jaahum min rabbihimu alhuda
23. اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَی الْاَنْفُسُ ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰیؕ۝۲۳

23. That is not, but some names, you and your fathers have named; Allah has not sent down any authority for them. They follow mere conjecture and desire of souls, whereas there has already come to them guidance from their Lord.
23. وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں (ف۲۴) اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری وہ تو نِرے گمان اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے ہیں (ف۲۵) حالانکہ بیشک ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آئی (ف۲۶)

(ف۲۴) - یعنی ان بتوں کا نام الٰہ اور معبود تم نے اور تمہارے باپ دادا نے بالکل بیجا اور غلط طور پر رکھ لیا ہے ، نہ یہ حقیقت میں الٰہ ہیں ، نہ معبود ۔

(ف۲۵) - یعنی ان کابتوں کو پوجنا عقل و علم و تعلیمِ الٰہی کے خلاف اتباعِ نفس وہو ا اور وہم پرستی کی بنا پر ہے ۔

(ف۲۶) - یعنی کتابِ الٰہی اور خدا کے رسول جنہوں نے صراحت کے ساتھ بار بار بتایا کہ بت معبود نہیں اور اللہ تعالٰی کے سوائے کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔

--------------------------------------------------------------------------------
24. Am lilinsani ma tamanna
24. اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰیؗۖ۝۲۴

24. Will the man have whatsoever he fancies?
24. کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے (ف۲۷)

(ف۲۷) - یعنی کافر جو بتوں کے ساتھ جھوٹی امیدیں رکھتے ہیں کہ وہ ان کے کام آ ئیں گے ، یہ امیدیں باطل ہیں ۔

--------------------------------------------------------------------------------
25. Falillahi alakhiratu waaloola
25. فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰی۠۝۲۵

25. But Allah is the Owner of the Hereafter and the world all.
25. تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے (ف۲۸)

(ف۲۸) - جسے جو چاہے دے اس کی عبادت کرنا اور اسی کو راضی رکھنا کام آئے گا ۔

--------------------------------------------------------------------------------

Category: My files | Added by: loveless
Views: 70246 | Downloads: 0 | Rating: 10.0/1
Section categories
My files [116]
Our poll
Rate my site

Total of answers: 29
Statistics

ٹوٹل آن لائن 1
مہمان 1
صارف 0
Login form

Shopping Cart
Your shopping cart is empty
Search

Get Your News Widget


Free Global Counter

{\rtf1\ansi\ansicpg1252\deff0\deflang1033{\fonttbl{\f0\fswiss\fcharset0 Arial;}} {\*\generator Msftedit 5.41.15.1507;}\viewkind4\uc1\pard\f0\fs20\par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par }