IP

Fans Of Islam

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ قیامت نہ ہو گی جب تک کہ میری امت ان باتوں کو اختیار نہ کرے گی جو کہ اس سے پہلے کی امتوں نے اختیار کی تھیں بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ (یعنی بالکل برابر)۔” کسی نے عرض کی، یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون لوگ مراد ہیں کیا پارسی اور عیسائی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: “ پھر اور کون؟”
Views: 16710 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

 سیدنا ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: “ (تعزیر میں) دس دروں سے زیادہ نہ مارے جائیں سوائے اللہ کی ان حدوں کے (جو اس نے قرآن و حدیث میں مقرر کر دی ہیں)۔”
Views: 53207 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

مرتدوں اور باغیوں سے توبہ کرانا اور ان سے لڑنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ کیا ہم سے ان فعلوں کا بھی مؤاخذہ ہو گا جو دور جاہلیت میں ہم نے کیے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جس نے (حالت) اسلام میں اچھے کام کیے اس سے دور جاہلیت کے گناہوں کا مؤاخذہ نہ کیا جائے گا اور جس نے (حالت) اسلام میں نیک عمل نہ کیے تو اس سے اگلے پچھلے (یعنی دور جاہلیت اور دور اسلام، دونوں ادوار کے) سب گناہوں کا مؤاخذہ ہو گا۔”
Views: 52803 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: “کرم تو مومن کا دل ہی ہے۔”۔ حدیث نمبر : 2053 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ لوگ کہتے ہیں کرم (انگور ہے) حالانکہ کرم مومن کا دل ہے۔”
Views: 15671 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

حضور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنہری باتیں حضور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنہری باتیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ حضور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے - انصاف کی گھڑی بر سوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ - جب مانگو تو اللہ سے مانگو اور جب مدد چاہو تو اللہ سے چاہو۔ - جو شخص چاندی سونے کے برتن میں کھاتا ھے اللہ اس کے پیٹ کو جھنم کی آگ سے بھر دے گا۔ - جھنمی لوگ خود پسند، خود پرست، متکبر، حریص اور بخیل ہوتے ہیں۔ - جو بات تم کو شک میں ڈالے وہ چھوڑ دو۔ - جس نے میری قبر کی زیارت کی جنت اس پر واجب ہوگئی۔ - جب نیکی تمہیں مسرور کرے اور برائی افسردہ کرے تو تم مومن ہو۔ - جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔ - جس برتن کو ڈھکا نہیں گیا اس کا پانی مت پیو۔ - مال داروں کے پاس کم جایا کرو تا کہ اللہ کی نعمتیں تمہاری نگاہ میں ذلیل و خوار نہ ہوں۔ بے شک میرے آقا نے بہت خوب فرمایا۔
Views: 6113 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

تبلیغ کا طریقہ کار اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں آپ آسانی اور نرمی کا راستہ اختیار کرنے والے تھے نہ کہ سخت گیر خوف دلانے والے۔ آپ ڈرانے دھمکانے کی بجائے زیادہ تر بشارت و خوشخبری کے ذریعے دعوت دیتے تھے۔ اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو تبلیغ اسلام کی غرض سے یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ یسرو لا تعسرو بشرولا تنفر (دلائل النبوہ ج ۵ ص ۴۰۱) ”یعنی آسانی اور نرمی کا راستہ اختیار کرو سختی کا نہیں اور لوگوں کو خوشخبری دو اور ان کی خواہش و رغبت و شوق کو ابھارو انہیں متنفر نہ کرو۔“ خود آپ ۱تبلیغ کے کام میں اکثر مشغول رہتے چنانچہ طائف کا سفر کیا حج کے زمانے میں (باہر سے آئے ہوئے) قبائل کے درمیان تشریف لے جاتے اور تبلیغ فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت علی کو اور پھر دوبارہ معاذ بن جبل ۱کو لوگوں کی تبلیغ کے واسطے یمن بھیجا مدینہ ہجرت فرمانے سے پہلے مصعب بن عمیر کو مدینہ والوں میں تبلیغ کرنے کے لئے بھیجا۔ اپنے بہت سے اصحاب کو حبشہ بھیجا جنہوں نے مکہ والوں کے ظلم و ستم اور ان کی ایذا رسانیوں سے نجات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حبشہ میں دین کی تبلیغ بھی کی اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی سمیت وہاں کی تقریباً آدھی آبادی کے لئے اسلام لانے کا موقع فراہم کیا۔ چھٹی ہجری میں دنیا کے بادشاہوں کو خطوط روانہ فرمائے جن میں انہیں اپنی نبوت و رسالت کی خبر دی ان میں سے تقریباً ایک سو خطوط کی نقلیں ابھی بھی موجود ہیں جو آپ نے مختلف اشخاص کو تحریر فرمائے تھے
Views: 39043 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

رات کے کچھ حصہ میں کبھی نصف شب کبھی ایک تہائی اور کبھی دو تہائی رات آپ عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ اگرچہ آپ کا پورا دن خصوصاً مدینہ میں قیام کے زمانے میں تبلیغی جدوجہد اور دوسرے دینی کاموں میں گزر جاتا تھا پھر بھی آپ کے عبادت کے وقت میں کوئی کمی نہیں ہوتی تھی آپ اپنا کامل آرام و سکون عبادت الٰہی اور اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز میں پاتے تھے۔ آپ کی عبادت بہشت کے طمع یا جہنم کے خوف کی بناء پر نہیں ہوتی تھی بلکہ آپ کی عبادت عاشقانہ اور شکر گذاروں جیسی ہوتی تھی۔ ایک روز آپ کی ازدواج میں سے کسی ایک نے کہا کہ آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں۔ آپ تو بخشے ہوئے ہیں آپ نے جواب دیا کہ ”کیا میں ایک شکرگذار بندہ نہیں ہوں؟“، آپ روزے بھی بہت رکھتے تھے ماہ شعبان اور رمضان کے علاوہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتے تھے اور ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں بالکل آرام چھوڑ دیتے اور مسجد میں اعتکاف کے لئے بیٹھ جاتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے لیکن دوسروں سے فرماتے تھے کہ تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھ لیا کرو فرماتے تھے: اپنی قوت و طاقت کے مطابق عبادت کیا کرو۔ اپنی استعداد سے زیادہ بوجھ اپنے اوپر مت لا دو ورنہ اس کا نتیجہ برعکس ہو گا آپ رہبانیت گوشہ نشینی اور خلوت میں بیٹھ جانے اور اہل و عیال کو ترک کر دینے کے مخالف تھے۔ اصحاب میں بعض نے اسی کام کا مصمم ارادہ کر لیا تھا تو وہ ملامت و سرزنش کے مستحق قرار پائے۔ آپ فرماتے تھے تمہارا بدن تمہارا اہل و عیال تمہارے دوست و احباب سب کے حقوق تمہارے اوپر واجب ہیں تمہیں ان حقوق کا لحاظ رکھنا چاہئے۔ تنہائی کی حالت میں عبادت کو طول دیتے تھے کبھی کبھی تہجد کی حالت میں گھنٹوں مشغول رہتے تھے لیکن جماعت میں اختصار کی کوشش فرماتے مامومین میں سے کمزور شخص کا لحاظ ضروری سمجھتے تھے اور اس کی وصیت فرماتے
Views: 5813 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

رسول اکرم کی شخصیت قیادت و رہبری کی شرائط کی بہترین مصداق قیادت و رہبری کی شرائط کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے تشخیص و تمیز کی حس دلیری اور ہوشیاری کامل یقین پیش قدمی کرنا محتمل و ممکن عواقب سے بے خوف رہنا مستقبل بینی اور دوراندیشی تنقید برداشت کرنے کی قوت افراد شناسی افراد کی قوتوں کا اندازہ کرنا اور ان کے مطابق انہیں اختیارات سونپنا۔ نجی اور انفرادی امور میں نرمی اصولی مسائل میں سختی اپنے پیروکاروں کی شخصیت کو اجاگر کرنا اور ان کی طرف برابر متوجہ رہنا ان کی عقلی جذباتی اور عملی صلاحیتوں کی تربیت کرنا اور انہیں ابھارنا استبداد و حاکمیت اور اندھی تقلید کے میلان و رجحان سے پرہیز تواضح و انکساری سادگی و درویشی وقار و متانت و سنجیدگی تنظیم اور نظام کو دوست رکھنا تاکہ انسانی قوتوں کو استعمال میں لایا جا سکے اور انہیں منظم کیا جا سکے۔ یہ تمام شرائط و صفات رسول اکرم کی ذات اقدس میں کمال کی حد تک اور مکمل طور پر موجود تھیں۔ آنحضرت فرماتے تھے: ”اگر تم تین آدمی ایک ساتھ سفر کرتے ہو تو اپنے میں ایک آدمی کو رئیس و حاکم منتخب کر لیا کرو۔“ آپ نے مدینہ کے اندر خود اپنے معاشرے میں خاص شعبے قائم کئے تھے مثلاً منشیوں کی تربیت فرمائی تھی ہر گروہ کو الگ الگ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ چند کاتبان وحی کی حیثیت سے تھے جو قرآن کو لکھ لیا کرتے تھے۔ ایک گروہ خصوصی خط و کتابت کے لئے مخصوص تھا۔ کچھ لوگوں کے معاہدوں اور معاملات کو لکھا کرتے تھے۔ ایک جماعت صدقات و ٹیکسوں کا حساب کتاب لکھتی تھی کچھ لوگ عہد ناموں اور اقرار ناموں کے ذمہ دار تھے: ”تاریخ یعقوبی“، ”التنبیہ والاشراف“ مسعودی ”معجم البلدان“ بلازری اور ”طبقات“ ابن سعد وغیرہ جیسی تاریخ کی کتابوں میں یہ ساری باتیں موجود ہیں
Views: 1942 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

قرآنى دعائيں
ربنا آتنا فى الدنيا حسنة و فى الآخرة حسنة و قنا عذاب النار ۔

پروردگار ہميں دنيا ميں بھى نيکى عطا فرما اور آخرت ميں بھي،اور ہميں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

بقرہ۔۲۰۱

ربنا افرغ علينا صبراً وثبت اقدامنا وانصرنا على القوم الکافرين۔

پالنے والے ہميں بے پناہ صبر عطا فرماہمارے قدموں کو ثبات دے اور ہميں کافروں کے مقابلہ ميں نصرت عطا فرما۔

بقرہ۔۲۵۰

ربنا لا تواخذنا ان نسينا او اٴخطاٴنا۔

پالنے والے ہم جو بھول جائیں يا ہم سے غلطى ہو جائے اس کا مواخذہ نہ کرنا ۔(یعنى اسکے بارے ميں جواب طلب نہ کرنا]۔

بقرہ۔۲۸۶

ربنا ولا تحمل علينا اصراًکما حملتہ على الذين من قبلنا۔
پالنے والے ہمارے اوپر ويسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا پچھلى امتوں پر ڈالا گيا ۔

بقرہ۔۲۸۶

ربنا ولا تحملنا مالا طاقة لنابہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنآ انت مولانا فانصرناعلى القوم الکافرين۔
پالنے والے ہم پر وہ بار نہ ڈالنا جس کى ہم ميں طاقت نہ ہو ،ہميں معاف کردينا،ہميں بخش دينا،تو ہمارا مولا اور مالک ہے ،اب کافروں کے مقابلہ ميں ہمارى مدد فرما ۔

بقرہ۔۲۸۶

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہديتنا وھب لنا من لدنک رحمة انک انت الوھاب۔
پالنے والے ہدایت کے بعد ہمارے دلوں کو نہ پھیرنا، ہميں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما،تو توبہترين عطا کرنے والا ہے۔

آل عمران۔۸

ربنا اننا آمنا فاغفرلنا ذنوبنا وقنا عذاب النار۔
پالنے والے ہم ايمان لے آئے ہيں ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور ہميں جہنم سے بچا لے۔

آل عمران ۔۱۶

ربنا اغفر لنا ذنوبنا و اسرافنا فى امرنا وثبت اقدامنا و انصرنا على القوم الکافرين۔
پالنے والے ہمارے گناہوں کو معاف کر دے ہمارے کاموں ميں زيادتیوں کو معاف فرما، ہمارے قدموں ميں ثبات عطا فرمااور کافروں کے مقابلہ ميں ہمارى مدد فرما۔

آل عمران ۔۱۴۷

ربنا فاغفر لنا ذنوبنا وکفر عنا سيئاتنا و توفنا مع الابرار۔
پالنے والے ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہم سے ہمارى برائيوں کو دور کردے اور ہميں نيک بندوں کے ساتھ محشور فرما۔

آل عمران ۔۱۹۳

ربنا آمنا فاکتبنا مع الشاہدين ۔
پالنے والے ہم ايمان لے آئے ہيں لہذا ہمارا نام بھى تصدیق کرنے والوں ميں لکھ لے۔

مائدہ۔۸۳

ربنا لاتجعلنا مع القوم الظالمين۔
پالنے والے ہميں ظالموں کے ساتھ قرار نہ دينا۔

اعراف۔۴۷

ربنا افرغ علينا صبراً و توفنا مسلمين

پالنے والے ہميں بہت زيادہ صبر عطا فرما اور ہميں مسلمان دنيا سے اٹھا۔

اعراف۔۱۲۶

ربنا و تقبل دعاء۔

پالنے والے ميرى دعا کو قبول فرما۔

ابراہيم۔۴۰

ربنا اغفرلى ولوالدى وللمومنيں يوم يقوم الحساب۔
پالنے والے مجھے،ميرے والدين کو اور تمام مومنين کو اس دن بخش دينا جس دن حساب قائم ہوگا۔

ابراہيم ۔۴۱

ربنا آتنا من لدنک رحمة و ہييٴ لنا من امرنا رشداً۔
پالنے والے ہميں اپنى رحمت عطا فرما اور ہمارے کام ميں کاميابى کا سامان فراہم کردے۔

کہف ۔۱۰

ربنا آمنا فاغفر لنا وارحمنا وانت خيرالراحمين۔
پالنے والے ہم ايمان لے آئے ہيں،اب ہميں معاف فرما اور ہمارے اوپر رحم کر اور تو تو رحم کرنے والوں ميں سب سے بہتر ہے۔

مومنون ۔۱۰۹

ربناھب لنا من ازواجنا وزرياتنا قرة اٴعين واجعلنا للمتقين اماماً۔
پالنے والے ہمارى ازواج و اولاد کى طرف سے خنکى ٴچشم عطا فرما اور ہميں صاحبان تقويٰ کا پيشوا بنا دے۔

فرقان ۔۷۴
Views: 88478 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

بعض وہ لوگ جو ہر چیز کو مادی مفاد کی نظر سے ہی دیکھتے ہیں انہوں نے اس شادی کو بھی مادی پہلو سے ہی دیکھا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے: چونکہ حضرت خدیجہ کو تجارتی امور کے لیے کسی مشہور و معروف اور معتبر شخص کی ضرورت تھی اس لیے انہوں نے پیغمبر اکرم سے شادی کا پیغام بھیجا۔ دوسری طرف پیغمبر اکرم یتیم و نادار تھے اور حضرت خدیجہ کی شرافتمانہ زندگی سے وافق تھے اسی لیے ان کی دولت حاصل کرنے کی غرض سے یہ رشتہ منظور کرلیا گیا، اگرچہ سن کے اعتبار سے دونوں کی عمروں میں کافی فرق تھا۔ اس کے برعکس اگر تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کیا جائے تو اس شادی کے محرکات میں بہت سے معنوی پہلو شامل تھے۔ اس سلسلے میں ہم یہاں پہلے پیغمبر خدا کی اور بعد میں حضرت خدیجہ کی نمائندگی کرتے ہوئے ذیل میں چند نکات بیان کرتے ہیں: اول تو پیغمبر کی پوری زندگی ہمیں زہد و تقویٰ و معنوی اقدار سے پر نظر آتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت کی نظر میں دنیوی مال و دولت اور جاہ و حشم کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی اور آپ نے حضرت خدیجہ کی دولت کو کبھی بھی اپنے ذاتی آرام و آسائش کی خاطر استعمال نہیں کیا۔ دوسرے اس شادی کی پیشکش حضرت خدیجہ نے کی تھی نہ کہ رسول اکرم نے۔ اب ہم یہاں حضرت خدیجہ کی جانب سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں: حضرت خدیجہ عفیف و پاکدامن خاتون تھیں اور انہیں متقی و پرہیزگار شوہر کی تلاش تھی۔ دوسرے یہ کہ ملک شام سے واپس آنے کے بعد جب ”میسرہ“ غلام نے سفر کے واقعات حضرت خدیجہ کو بتائے تو ان کے دل میں ”امین قریش“ کے لیے جذبہ محبت و الفت بڑھ گیا چنانچہ اس محبت کا سرچشمہ پیغمبر اکرم کے کمالات نفسانی اور اخلاقی فضائل تھے اور حضرت خدیجہ کو ان ہی کمالات سے تعلق اور واسطہ تھا۔ تیسرے یہ کہ پیغمبر اکرم سے شادی کرنے کے بعد حضرت خدیجہ نے آپ کو سفر تجارت پر جانے کی ترغیب نہیں دلائی۔ اگر انہوں نے یہ شادی اپنے مال و دولت میں اضافہ کرنے کی غرض سے کی ہوتی تو وہ رسول ااکرم کو ضرور سفر پر روانہ کرتیں تاکہ مال و دولت میں اضافہ ہوسکے۔ اس کے برعکس حضرت خدیجہ نے اپنی دولت آنحضرت کے حوالے کر دی تھی تاکہ اسے آپ ضرورت مند لوگوں پر خرچ کریں۔ حضرت خدیجہ نے رسولِ خدا سے گفتگو کرتے ہوئے شادی کی درخواست کے اصل محرک کو اس طرح بیان کیا ہے۔ اے میرے چچا کے بیٹے! چونکہ میں نے تمہیں ایک شریف، دیانتدار، خوش خلق اور راست گو انسان پایا تو میں تمہاری جانب مائل ہوئی اور شادی کے لیے پیغام بھیجا۔
Views: 74212 | Added by: loveless | Date: 2012-01-22 | Comments (0)

[۲۸ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا وَإِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیکُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ إِنْ شَاءَ إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ
ترجمہ
۲۸۔ اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہیں جاسکتے اور اگر فقر وفاقہ سے ڈرتے ہو تو خدا اپنے فضل سے چاہے گا تمھیں بے نیاز کردے گا، خدا دانا اور حکیم ہے ۔

مشرکین کو مسجد میں داخلے کا حق نہیں ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ۹ھء مراسم حج میں مکہ کے لوگوں تک جو چار احکام پہنچائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آئندہ سال کوئی مشرک مسجد الحرام میں داخل ہونے اور خانہ کعبہ کے گرد طواف کرنے کا حق نہیں رکھتا، مندرجہ بالا آیت اس امر اور اس کے فلسفے کی طرف اشارہ کرتی ہے، پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والو! مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد انھیں مسجد الحرام کے قریب نہیں آنا چاہیے (یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا) ۔
کیا یہ آیت مشرکین کے نجس ہونے پر فقہی مفہوم کے لحاظ سے دلیل ہے یا نہیں ، اس سلسلے میں فقہاء اور مفسّرین میں اختلاف ہے ۔
آیت کے معنی کی تحقیق کے لئے ضروری ہے کہ پہلے لفظ ”نجس“ (بروزن ”ہوس“) پر بحث کی جائے، یہ لفظ مصدری معنی رکھتا ہے اور تاکید ومبالغہ کے طور پر صفت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
راغب نے مفردات میں اس لفظ کے معنی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ”نجاست“ اور ”نجس“ ہر قسم کی ناپاکی کے معنی میں ہے اور وہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک حسّی اور دوسری باطنی ۔
طبرسی ”مجمع البیان“ میں کہتے ہیں کہ ہر وہ چیز کہ جس سے انسان کی طبیعت متنفر ہو اسے ”نجس“ کہا جاتا ہے ۔
اس لئے یہ لفظ بہت سے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جہاں اس کا ظاہری نجاست اور آلودگی کا مفہوم نہیں ہوتا، مثلاً ایسی تکلیف اور درد کہ جس کا علاج دیر میں ہو عرب اسے ”نجس“ کہتے ہیں، پست اور شریر اشخاص کے لئے بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے، بڑھاپے اور بدن کی کہنگی وفرسوگی کو بھی ”نجس“ کہتے ہیں ۔
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ مشرکین کو نجس اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کا جسم پلید ہے جیسے خون، پیشاب اور شراب نجس ہوتے ہیں یا یہ کہ بت پرستی کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے ان میں ایک قسم کی باطنی پلیدگی ہے، اس طرح سے کفار کی نجاست ثابت کرنے کے لئے اس آیت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا اور اس کے لئے ہمیں دوسری ادلّہ تلاش کرنا پڑ یں گی ۔
اس کے بعد ان کوتاہ فکر افراد کو جواب دیا گیا ہے جو یہ اظہار کرتے تھے کہ اگر مشرکین کا مسجد الحرام میں آنا جانا بند ہوگیا تو ہمارا کاروبار اور تجارت بند ہوجائے گی اور ہم فقیر ہوکر رہ جائیں گے، ارشاد ہوتا ہے: فقر وفاقہ سے ڈرتے ہو تو اگر خدا نے چاہا تو عنقریب تمھیں اپنے فضل وکرم کے ذریعہ بے نیاز کردے گا (وَإِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیکُمْ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ) ۔
اور ایسا ہی ہوا کہ اُس نے مسلمانوں کو بہترین طور پر بے نیاز کردیا اور زمانہٴ پیغمبر ہی میں اسلام کے پھیلاوٴ اور وسعت سے خانہٴ خدا کے زائرین کا ایک سیلاب مکہ کی طرف اُمڈ آیا اور آج تک اسی طرح جاری وساری ہے ، مکہ جو جغرافیائی لحاظ سے نامناسب ترین حالات سے دوچار ہے، جو چند خشک اور سنگلاخ بے آب وگیاہ پہاڑوں کے درمیان موجود ہے، اس کے باوجود ایک بہت ہی آباد شہر ہے اور تجارت کا اہم مرکز ہے ۔
آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: خدا علیم و حکیم ہے (إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ) اور وہ جو بھی کم دیتا ہے حکمت کے مطابق ہوتا ہے اور وہ نتائج سے مکمل طور پر آگاہ اور باخبر ہے ۔

۲۹ قَاتِلُوا الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَابِالْیَوْمِ الْآخِرِ وَلَایُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُہُ وَلَایَدِینُونَ دِینَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَدٍ وَھُمْ صَاغِرُونَ
ترجمہ
۲۹۔ اہلِ کتاب میں سے وہ لوگ جو نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز جزا پر اور نہ اسے حرام سمجھتے جسے الله اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور نہ دینِ حق قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ خضوع وتسلیم کے ساتھ جزیہ دینے لگیں ۔

اہلِ کتاب کے بارے میں ہماری ذمہ داری گذشتہ آیات میں بت پرستوں سے متعلق مسلمانوں کی ذمہ داری یبان کی گئی ہے، زیر بحث آیت اور آئندہ آیات میں اہلِ کتاب کے بارے میں مسلمانوں کی ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے، ان آیات میں در حقیقت اسلام کے ایسے احکام ہیں جو مسلمانوں اور مشرکین کے بارے میں اسلامی احکام کا حد وسط ہیں کیونکہ اہلِ کتاب ایک آسمانی دین کی پیروی کی وجہ سے مسلمانوں سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن ایک پہلو سے مشرکین کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں اسی بناپر اسلام انھیں قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا حالانکہ جو بت پرست کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان کے لئے یہ اجازت دیتا تھا کیونکہ پروگرام یہ ہے کہ روئے زمین سے بت پرستی کی بیخ کنی کی جائے، لیکن اہلِ کت ... مزید
Views: 14721 | Added by: loveless | Date: 2011-12-28 | Comments (0)

امیر عالمی تنظیم اہلسنت پیر محمد افضل قادری، تحفظ ناموس رسالت محاذ کے مرکزی رہنما ڈاکٹر سرفراز نعیمی، JUPکے مرکزی رہنما سید مختار اشرف رضوی، حاجی محمد اسلم جنجوعہ، سید شاہد حسین گردیزی، اور عارف اعوان ایڈووکیٹ نے ''تحفظ ناموس رسالت'' کے حوالے پریس کلب لاہور میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ملکہ برطانیہ نے پوری امت مسلمہ کا دل دکھانے والے شاتم رسول شیطان رشدی کو بلاجواز سر کا خطاب دے کر کھلی اسلام دشمنی کا ارتکاب کیا ہے اور امن عالم کے خلاف ایک بہت بڑے فساد اور دہشت گردی کی بنیاد رکھی ہے۔ اس سے قرآن مجید کی صداقت ایک بار پھر ثابت ہوئی ہے کہ ''یہود ونصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست وخیر خواہ نہیں ہوسکتے'' اور یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح واضح ہوئی ہے کہ توہین انبیا کے واقعات کے ذمہ دار صرف چند شیطان صفت رائٹر وغیرہ ہی نہیں بلکہ ان تمام مفسدات کی اصل ذمہ دار یہود د نصاریٰ کی بڑی ملکہ برطانیہ ہے۔ لیکن اس سے بھی افسوس ناک امر یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کی سخت توہین ہونے کے باوجود ابھی تک مسلم حکمرانوں نے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا اور مرکز اسلام حرمین شریفین کے خادم شاہ عبد اللہ، امام کعبہ، علماء حرمین اور عالم اسلام کے نام نہاد چمپیئن صدر مشرف مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ نیز حال ہی میں گجرات میں ایک اور شیطان رشدی پیدا ہوا ہے اس ملعون شاتم رسول یونس چغتائی نے دو انتہائی دلآزار کتابیں ''ذلت'' اور ''ایک مولانا ایک کافر'' جن میں اسلام پیغمبر اسلام اور قرآن مجید کی کھلی توہین کی گئی ہے چھاپ کر ملک بھر کی لائبریریوں میں تقسیم کی ہیں جس کے خلاف گجرات پولیس نے دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا ہے لیکن اصل مجرم برطانیہ بھاگ گیا ہے اور ملزمان میں سے ایک میاں قاسم کو ایک عاشق رسول پولیس ملازم غازی ثاقب شکیل نے حوالات میں گولی مار کر واصل جہنم کردیا ہے۔ اس شیطانی کام میں یہود ونصاریٰ اور قادیانیوں کا ایک مضبوط فسادی گروپ ملوث ہے جسے بلا تاخیر گرفتار کرنا اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنا از حد ضروری ہے لیکن افسوس ہے کہ اعلیٰ حکام ان گستاخان رسول کے بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اندریں حالات عالمی تنظیم اہلسنت مطالبہ کرتی ہے کہ 1۔ ملکہ برطانیہ اور حکومت برطانیہ کے خلاف صرف احتجاج کرنا کافی نہیں بلکہ مسلم حکومتیں برطانیہ سے سفارتی وتجارتی تعلقات ختم کریں اور ملکہ برطانیہ اور حکومت برطانیہ کو دہشت گرد وشیطان قرار دے کر ان کے خلاف علم جہاد بلند کریں۔ 2۔ حکومت پاکستان جیسے امریکہ اور برطانیہ کے دشمن انکے حوالے کرتی ہے ایسی ہی برطانیہ سے شاتمان رسول ملعون رشدی اور ملعون یونس چغتائی کو پاکستان کے حوالے کرنے کا پرزور مطالبہ کرے۔ 3۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی بلاتاخیر گجرات آئیں اور گجرات کے گستاخوں کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھانے کا علان کریں اور ایک شاتم رسول کو واصل جہنم کرنے والے پولیس ملازم غازی ثاقب کی رہائی اور انہیں بڑا انعام دینے کا اعلان کریں۔ پیر محمد افضل قادری نے فتویٰ جاری کیا کہ سلمان رشدی اور یونس چغتائی دونوں واجب القتل ہیں ان دونوں کی کتابیں انتہائی گستاخانہ اور دلآزار ہیں اور انکے پیچھے امن عالم کو تباہ کرنے والے کچھ فسادی لوگوںکا ہاتھ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملعون رشدی اور ملعون یونس چغتائی کو انٹرر پول کے ذریعے گرفتار کیاجائے اور اس جرم میں شریک تمام ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی کی جائے۔
Views: 11580 | Added by: loveless | Date: 2011-12-28 | Comments (0)

سورة الفاتحة بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم مالك يوم الدين اياك نعبد و اياك نستعين اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم و لا الضالين
Views: 3019 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

جہاد کا لفظی معنی

امام راغب اصفہانی جہاد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اَلْجِهَادُ والْمُجَاهَدَةُ : اِسْتِرَاغُ الْوُسْعِ فِيْ مُدَافَعَةِ العُدُوِّ. (راغب الصفهانی، المفردات : 101)
ترجمہ: دشمن کے مقابلہ و مدافعت میں فوراً اپنی پوری قوت و طاقت صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔
Views: 5085 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

جہاد کا اصطلاحی معنی شریعت اسلامی کی اصطلاح میں ’’دین اسلام کی اشاعت و ترویج، سربلندی و اعلاء اور حصول رضائے الٰہی کے لئے اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی اور ذہنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو وقف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔‘‘
Views: 10323 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

جہاد کی اقسام جہاد کو مسلسل عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس کی درج ذیل اقسام ہیں: جہاد بالعلم جہاد بالمال جہاد بالعمل جہادبالنفس جہاد بالقتال []جہاد بالعلم یہ وہ جہاد ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت پر مبنی احکامات کا علم پھیلایا جاتا ہے تاکہ کفر وجہالت کے اندھیرے ختم ہوں اور دنیا رشد و ہدایت کے نور سے معمور ہو جائے۔
Views: 156576 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (1)

جہاد بالعملجہاد بالعمل کا تعلق ہماری زندگی سے ہے۔ اس جہاد میں قول کے بجائے عمل اور گفتار کی بجائے کردار کی قوت سے معاشرے میں انقلاب برپا کرنا مقصود ہے۔ جہاد بالعمل ایک مسلمان کیلئے احکامِ الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے اور اپنی زندگی کو ان احکام کے مطابق بسرکرنے کا نام ہے۔
Views: 90208 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

جہاد بالمالاپنے مال کو دین کی سر بلندی کی خاطر اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کو جہاد بالمال کہتے ہیں۔
Views: 90191 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

جہاد بالنفسجہاد بالنفس بندۂ مومن کیلئے نفسانی خواہشات سے مسلسل اور صبر آزما جنگ کا نام ہے۔ یہ وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے پر محیط ہے۔ شیطان براہ راست انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر نفس کو مطیع کر لیا جائے اور اس کا تزکیہ ہو جائے تو انسان شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
Views: 6197 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

جہاد بالقتال یہ جہاد میدان جنگ میں کافروں اور دین کے دشمنوں کے خلاف اس وقت صف آراء ہونے کا نام ہے جب دشمن سے آپ کی جان مال یا آپ کے ملک کی سرحدیں خطرے میں ہوں۔ اگر کوئی کفر کے خلاف جنگ کرتا ہوا شہید ہو جائے تو قرآن کے فرمان کے مطابق اسے مردہ نہ کہا جائے بلکہ حقیقت میں وہ زندہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔ — القرآن سورۃ البقرہ:154
Views: 11716 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

نزول حکم جہاد جہاد بالقتال کا حکم نبوت کے مدنی دور میں نازل ہوا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے قریش اور مسلمانوں میں بدر کے مقام پر غزوہ ہوا، جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ كيونكہ جہاد ميں جان لی اور دی جاتی ہے اور جان لينا ہميشہ سے الہامی شريعتوں ميں ممنوع رہا ہے سب سے پہلے مسلمانوں كو جہاد كی اجازت دی گئی۔ يہ اجازت مسلمانوں كو سب سے پہلے جب دی گئ تو ساتھ اس كی وجہ يہ بيان كی كہ يہ لوگ اس لئے لڑ سكتے ہيں كہ ان پر ظلم ہوا ہے۔ قرآن ميں آيا ہے: [1] جن سے جنگ کی جائے، اُنھیں جنگ کی اجازت دی گئی، اِس لیے کہ اُن پر ظلم ہوا ہے، اور اللہ یقینا اُن کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے، صرف اِس بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ — القرآن سورۃ الحج:39 - 40 جہاد بالقتال کے لئے کچھ بنیادی شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے، جن کے بغیر جہاد انسانیت کے لیے محض فتنہ و فساد کا باعث بنتا ہے، جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ جہاد کی بنیادی شرائط میں درج ذیل شامل ہیں: جہاد اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عوام الناس کو فردا فردا، جتھوں، یا تنظیمیوں کی صورت میں جہاد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
Views: 9658 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

]جہاد کے دوران احتیاطیں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر وار نہیں کیا جائے گا۔ غیرمسلح لوگوں پر وار نہیں کیا جائے گا۔ درختوں کو کاٹا نہیں جائے گا۔ شک کی بناء پر کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی کافر جنگ کے دوران موت کے خوف کی وجہ سے کلمہ پڑھ لے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل نہ کیا جائے کیونکہ اسلام جنگ و جدل کا نہیں بلکہ امن و اصلاح کا دین ہے۔ احادیث میں تو یہاں تک تاکید ملتی ہے کہ اگر کوئی کافر سر پر لٹکتی تلوار دیکھ کر اسلام قبول کر لے تو اس کے قتل سے ہاتھ روک لینا ضروری ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی ایک کافر کو قتل کرنے ہی والے تھے کہ اس نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا، مگر صحابی نے اس کے کلمے کی پرواہ نہ کی اور اسے قتل کر دیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سخت الفاظ میں اس قتل کی مذمت کی اور صحابی کے اس قول پر کہ اس کافر نے محض جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا، ارشاد فرمایا: أفَلاَ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ؟ (مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب تحريم قتل الکافر بعد أن قال لا إله إلا اﷲ، 1 : 96، رقم : 96) ترجمہ : کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس مقتول کے ورثاء کو پوری دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا۔
Views: 6145 | Added by: loveless | Date: 2011-12-17 | Comments (0)

بسم الله الرحمن الرحيم اور (مسلمانو!) تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (مظلوموں کی آزادی کے لئے) جنگ نہیں کرتے حالانکہ کم زور، مظلوم اور مقہور مرد، عورتیں اور بچے (ظلم و ستم سے تنگ آ کر اپنی آزادی کے لئے) پکارتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جہاں کے (وڈیرے) لوگ ظالم ہیں، اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا کارساز مقرر فرما دے، اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا مددگار بنا دے 75 سُورة النِّسَآء آيت ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اُس کے والد (یعنی والدین)، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔‘‘ أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الإِيْمَانِ، باب : حُبُّ الرَّسُوْلِ صلي الله عليه وآله وسلم
Views: 6404 | Added by: loveless | Date: 2011-08-21 | Comments (0)

بسم الله الرحمن الرحيم (اﷲ کی راہ میں) قتال تم پر فرض کر دیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں طبعاً ناگوار ہے، اور ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ (حقیقتاً) تمہارے لئے بہتر ہو، اور (یہ بھی) ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ (حقیقتاً) تمہارے لئے بری ہو، اور اﷲ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے سورة البقرة الآية 216
Views: 46293 | Added by: loveless | Date: 2011-08-21 | Comments (0)

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان مبارک ہے کہ" جس شخص نے مجھ پہ چھوٹ بولا(یعنی میری طرف غلط نسبت کی کہ جو بات میں نے نہیں کہی اس نے وہ بات میری طرف منسوب کی) تواسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے
Views: 10106 | Added by: loveless | Date: 2011-08-21 | Comments (0)

کیا تم میں سے کوئی شخص ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے سوال کیا: ہم میں سے کوئی آدمی ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا(سبحان اللہ وبحمدہ) سو مرتبہ پڑھے اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جائیں گے-حوالہ:۔۔باب:علم ذک۔۔حدیث نمبر۔۔١١٢
Views: 99131 | Added by: loveless | Date: 2011-08-21 | Comments (0)

ومن لعن مؤمناً فهو كقتله جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی گویا اس نے اس کو قتل کر دیا۔ صحیح بخاری ، کتاب الادب فاتح خبیر حضرت علی مرتضیٰ کرم الله وجہہ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا، کسی کی عیب گیری نہیں کی ، کبھی کسی کی ٹوہ میں نہیں لگے، بحث ومباحثہ سے دور رہے او ربے ضرورت اور بے مطلب بات کبھی نہیں کی۔” ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی عادت تھی کہ کبھی آپ کسی کو برا نہیں کہتے تھے۔ اگر حضور صلی الله علیہ وسلم کی موجودگی میں کبھی لوگ کسی کو برا کہتے تو حضور کو ناگوار گزرتا اور آپ ان کو سختی کے ساتھ منع فرماتے، حد یہ ہے کہ جن لوگوں نے رسول الله کے ساتھ جان بوجھ کر زیادتیاں کیں آپ نے ان کی تحقیر وتذلیل بھی گوارا نہیں کی ۔ جب آپ کو کسی مسئلہ میں دو باتوں کااختیار دیا جاتا تو آسان کو اختیار فرماتے، بشرطِ کہ اس میں گناہ کا شائبہ نہ ہو۔ کیوں کہ گناہ کے کاموں سے آپ کو سخت نفرت تھی ! کبھی اپنے ذاتی معاملے میں انتقام نہیں لیا اور کبھی کسی مسلمان پر لعنت نہیں کی ، آپ کسی کی جائز درخواست کبھی رد نہیں فرماتے تھے ۔ان ارشادات عالیہ سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان پر لعنت بھیجنا، ذلت کے ساتھ اس کا نام لینا، خامیوں کی تلاش میں اس کی ٹوہ میں لگنا۔ بحث ومباحثہ میں الجھ کر تضیع اوقات کرنا، بلاضرورت او ربے مطلب باتیں کرنا اسوہٴ حسنہ کے خلاف ہے، جو لوگ ان حرکتوں کے۔مرتکب ہوئے ہیں وہ یقینا اسلامی تعلیمات کے خلاف کام کرتے ہیں جس سے مسلمانوں کی رسوائی ہوتی ہے او رافتراق وانتشار کی طاقتوں کو شہ ملتی ہے، خدا مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ آپس میں نفاق مت پھیلاؤ اور اتفاق واتحاد کے ساتھ رہو، تاکہ تمہارے سلوک سے خائف ہو کر تمہارے دشمن نہ تمہیں ذلیل ورسوا کر سکیں اورنہ انفرادی اور اجتماعی طور پر تمہیں نقصان پہنچا سکیں۔جانتا ہوں سب احباب کے پاس اس کا جواب اور دلیل موجود ہو گی، پر اصل مسئلہ یہ ہے کہ روزِ جزا اس مالک و مختار کو کیا دلیل دے سکیں گے جب زبان کے علاوہ سارا جسم بولے گا۔
Views: 10381 | Added by: loveless | Date: 2011-08-21 | Comments (0)

حضرت رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ زیادہ کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے آدمی سنگدل بن جاتا ہے اور اعضاء بدن میں سستی آ تی ہے۔ جو الله کے حکم پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے اور زیادہ کھانا کانوں کو بہرہ بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان نصیحت کو نہیں سنتا۔ اسی طرح ادھر ادھر دیکھنے سے پرہیز کرو کیونکہ آنکھوں کی یہ حرکت ہوا وحوس کو بڑھاتی ہے اور انسان کو غافل بنا دیتی ہے ۔
Views: 10127 | Added by: loveless | Date: 2011-08-21 | Comments (0)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے ۔ اس سے جنگ کرنا کفر ہے ۔ ابن ماجہ۔ كتاب الفتن۔۔باب : سباب المسلم فسوق وقتاله كفر
Views: 13091 | Added by: loveless | Date: 2011-08-18 | Comments (0)

Our poll
Rate my site

Total of answers: 29
Statistics

ٹوٹل آن لائن 1
مہمان 1
صارف 0
Login form

Shopping Cart
Your shopping cart is empty
Search
Calendar
«  اگست 2017  »
SuMoTuWeThFrSa
  12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031
Entries archive

Get Your News Widget


Free Global Counter

{\rtf1\ansi\ansicpg1252\deff0\deflang1033{\fonttbl{\f0\fswiss\fcharset0 Arial;}} {\*\generator Msftedit 5.41.15.1507;}\viewkind4\uc1\pard\f0\fs20\par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par }