منگل
2020-08-04
1:09 AM
Welcome مہمان
RSS
 
Read! the name of lord پڑھ اپنے رب کے نام سے
Home Sign Up Log In
Quran Majeed With Urdu and English Translation »
Site menu

Section categories
My files [115]

Chat Box
 
200

Our poll
Rate my site

Total of answers: 30

Statistics

ٹوٹل آن لائن 1
مہمان 1
صارف 0


سورت انبیاء
2010-11-11, 0:37 AM


اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

(ف۱) - سورت انبیاء مکّیہ ہے اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ ۱۱۲ آیتیں اور ایک ہزار ایک سو چھیاسی ۱۱۸۶کلمے اور چار ہزار آٹھ سو نو_ے حرف ہیں ۔

--------------------------------------------------------------------------------
1. لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منھ پھیرے ہیں (ف۲)
1. اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ۝۱

(ف۲) - یعنی حسابِ اعمال کا وقت روزِ قیامت قریب آ گیا اور لوگ ابھی تک غفلت میں ہیں ۔ شانِ نُزول : یہ آیت منکرینِ بَعث کے حق میں نازِل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے تھے اور روزِ قیامت کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
2. جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے (ف۳)
2. مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ۝۲

(ف۳) - نہ اس سے پند پذیر ہوں , نہ عبرت حاصل کریں , نہ آنے والے وقت کے لئے کچھ تیاری کریں ۔

--------------------------------------------------------------------------------
3. ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں (ف۴) اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی (ف۵) کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں (ف۶) کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر
3. لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَی ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۝۳

(ف۴) - اللہ کی یاد سے غافل ہیں ۔

(ف۵) - اور اس کے اخفاء میں بہت مبالغہ کیا مگر اللہ تعالٰی نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ کہتے ہیں ۔

(ف۶) - یہ کُفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا ، حضور کے زمانہ کے کُفّار نے یہ بات کہی اور اس کو چھپایا لیکن آج کل کے بعض بے باک یہ کلمہ اعلان کے ساتھ کہتے ہیں اور نہیں شرماتے ، کُفّار یہ مقولہ کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں جمے گی نہیں کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں وہ کس طرح باور کر سکیں گے کہ حضور ہماری طرح بشر ہیں اس لئے انہوں نے معجزات کو جادو بتا دیا اور کہا ۔

--------------------------------------------------------------------------------
4. نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر بات کو اور وہی ہے سنتا جانتا (ف۷)
4. قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ؗ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۝۴

(ف۷) - اس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی خواہ کتنے ہی پردہ اور راز میں رکھی گئی ہو ، ان کا راز بھی اس میں ظاہر فرما دیا ، اس کے بعد قرآنِ کریم سے انہیں سخت پریشانی و حیرانی لاحق تھی کہ اس کا کس طرح انکار کریں ، وہ ایسا بیّن معجِزہ ہے جس نے تمام مُلک کے مایہ ناز ماہروں کو عاجز و متحیّر کر دیا ہے اور وہ اس کی دو چار آیتوں کی مثل کلام بنا کر نہیں لا سکے ، اس پریشانی میں انہوں نے قرآنِ کریم کی نسبت مختلف قسم کی باتیں کہیں جن کا بیان اگلی آیت میں ہے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
5. بلکہ بولے پریشان خوابیں ہیں (ف۸) بلکہ ان کی گڑھت ہے (ف۹) بلکہ یہ شاعر ہیں (ف۱۰) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے (ف۱۱)
5. بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ۝۵

(ف۸) - ان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحیٔ الٰہی سمجھ گئے ہیں ، کُفّار نے یہ کہہ کر سوچا کہ یہ بات چسپاں نہیں ہو سکے گی تو اب اس کو چھوڑ کر کہنے لگے ۔

(ف۹) - یہ کہہ کر خیال ہوا کہ لوگ کہیں گے کہ اگر یہ کلام حضرت کا بنایا ہوا ہے اور تم انہیں اپنے مثل بشر بھی کہتے ہو تو تم ایسا کلام کیوں نہیں بنا سکتے ، یہ خیال کر کے اس بات کو بھی چھوڑ ا اور کہنے لگے ۔

(ف۱۰) - اور یہ کلام شعر ہے اسی طرح کی باتیں بناتے رہے کسی ایک بات پر قائم نہ رہ سکے اور اہلِ باطل کذّابوں کا یہی حال ہوتا ہے ، اب انہوں نے سمجھا کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں ہے تو کہنے لگے ۔

(ف۱۱) - اس کے رد و جواب میں اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
6. اِن سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا تو کیا یہ ایمان لائیں گے (ف۱۲)
6. مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ۝۶

(ف۱۲) - معنٰی یہ ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو نشانیاں آئیں تو وہ ان پر ایمان نہ لائے اوران کی تکذیب کرنے لگے اور اس سبب سے ہلاک کر دیئے گئے تو کیا یہ لوگ نشانی دیکھ کر ایمان لے آئیں گے باوجودیکہ ان کی سرکشی ان سے بڑھی ہوئی ہے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
7. اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے (ف۱۳) تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو (ف۱۴)
7. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝۷

(ف۱۳) - یہ ان کے کلامِ سابق کا رد ہے کہ انبیاء کا صورتِ بشری میں ظہور فرمانا نبوّت کے منافی نہیں ، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔

(ف۱۴) - کیونکہ ناواقف کو اس سے چارہ ہی نہیں کہ واقف سے دریافت کرے اور مرضِ جہل کا علاج یہی ہے کہ عالِم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عامل ہو ۔ مسئلہ : اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے ، یہاں انہیں علم والوں سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کہ ان سے دریافت کرو کہ اللہ کے رسول صورتِ بشری میں ظہور فرما ہوئے تھے یا نہیں ، اس سے تمہارے تردُّد کا خاتمہ ہو جائے گا ۔

--------------------------------------------------------------------------------
8. اور ہم نے انہیں (ف۱۵) خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں (ف۱۶) اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں
8. وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ۝۸

(ف۱۵) - یعنی انبیاء کو ۔

(ف۱۶) - تو ان پر کھانے پینے کا اعتراض کرنا اور یہ کہنا کہ'' مَا لِھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ '' مَحض بے جا ہے ، تمام انبیاء کا یہی حال تھا وہ سب کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
9. پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں سچا کر دکھایا (ف۱۷) تو انہیں نجات دی اور جن کو چاہی (ف۱۸) اور حد سے بڑھنے والوں کو (ف۱۹) ہلاک کر دیا
9. ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ۝۹

(ف۱۷) - ان کے دشمنوں کو ہلاک کرنے اور انہیں نجات دینے کا ۔

(ف۱۸) - یعنی ایمانداروں کو جنہوں نے انبیاء کی تصدیق کی ۔

(ف۱۹) - جو انبیاء کی تکذیب کرتے تھے ۔

--------------------------------------------------------------------------------
10. بیشک ہم نے تمہاری طرف (ف۲۰) ایک کتاب اتاری جس میں تمہاری ناموری ہے (ف۲۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۲۲)
10. لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠۝۱۰

(ف۲۰) - اے گروہِ قریش ۔

(ف۲۱) - اگر تم اس پر عمل کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ کتاب تمہاری زبان میں ہے یا یہ کہ اس میں تمہارے لئے نصیحت ہے یا یہ کہ اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور اور حوائج کا بیان ہے ۔

(ف۲۲) - کہ ایمان لا کر اس عزّت و کرامت اور سعادت کو حاصل کرو ۔

--------------------------------------------------------------------------------

Category: My files | Added by: loveless
Views: 8215 | Downloads: 0 | Rating: 10.0/1
Log In

Search

Site friends