IP

Main » 2011 » دسمبر » 28 » اصل ذمہ دار یہود و نصاریٰ کی بڑی ملکہ برطانیہ ہے۔ تنظیم اہلسنت
1:32 AM
اصل ذمہ دار یہود و نصاریٰ کی بڑی ملکہ برطانیہ ہے۔ تنظیم اہلسنت
امیر عالمی تنظیم اہلسنت پیر محمد افضل قادری، تحفظ ناموس رسالت محاذ کے مرکزی رہنما ڈاکٹر سرفراز نعیمی، JUPکے مرکزی رہنما سید مختار اشرف رضوی، حاجی محمد اسلم جنجوعہ، سید شاہد حسین گردیزی، اور عارف اعوان ایڈووکیٹ نے ''تحفظ ناموس رسالت'' کے حوالے پریس کلب لاہور میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ملکہ برطانیہ نے پوری امت مسلمہ کا دل دکھانے والے شاتم رسول شیطان رشدی کو بلاجواز سر کا خطاب دے کر کھلی اسلام دشمنی کا ارتکاب کیا ہے اور امن عالم کے خلاف ایک بہت بڑے فساد اور دہشت گردی کی بنیاد رکھی ہے۔ اس سے قرآن مجید کی صداقت ایک بار پھر ثابت ہوئی ہے کہ ''یہود ونصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست وخیر خواہ نہیں ہوسکتے'' اور یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح واضح ہوئی ہے کہ توہین انبیا کے واقعات کے ذمہ دار صرف چند شیطان صفت رائٹر وغیرہ ہی نہیں بلکہ ان تمام مفسدات کی اصل ذمہ دار یہود د نصاریٰ کی بڑی ملکہ برطانیہ ہے۔ لیکن اس سے بھی افسوس ناک امر یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کی سخت توہین ہونے کے باوجود ابھی تک مسلم حکمرانوں نے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا اور مرکز اسلام حرمین شریفین کے خادم شاہ عبد اللہ، امام کعبہ، علماء حرمین اور عالم اسلام کے نام نہاد چمپیئن صدر مشرف مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ نیز حال ہی میں گجرات میں ایک اور شیطان رشدی پیدا ہوا ہے اس ملعون شاتم رسول یونس چغتائی نے دو انتہائی دلآزار کتابیں ''ذلت'' اور ''ایک مولانا ایک کافر'' جن میں اسلام پیغمبر اسلام اور قرآن مجید کی کھلی توہین کی گئی ہے چھاپ کر ملک بھر کی لائبریریوں میں تقسیم کی ہیں جس کے خلاف گجرات پولیس نے دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا ہے لیکن اصل مجرم برطانیہ بھاگ گیا ہے اور ملزمان میں سے ایک میاں قاسم کو ایک عاشق رسول پولیس ملازم غازی ثاقب شکیل نے حوالات میں گولی مار کر واصل جہنم کردیا ہے۔ اس شیطانی کام میں یہود ونصاریٰ اور قادیانیوں کا ایک مضبوط فسادی گروپ ملوث ہے جسے بلا تاخیر گرفتار کرنا اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنا از حد ضروری ہے لیکن افسوس ہے کہ اعلیٰ حکام ان گستاخان رسول کے بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اندریں حالات عالمی تنظیم اہلسنت مطالبہ کرتی ہے کہ 1۔ ملکہ برطانیہ اور حکومت برطانیہ کے خلاف صرف احتجاج کرنا کافی نہیں بلکہ مسلم حکومتیں برطانیہ سے سفارتی وتجارتی تعلقات ختم کریں اور ملکہ برطانیہ اور حکومت برطانیہ کو دہشت گرد وشیطان قرار دے کر ان کے خلاف علم جہاد بلند کریں۔ 2۔ حکومت پاکستان جیسے امریکہ اور برطانیہ کے دشمن انکے حوالے کرتی ہے ایسی ہی برطانیہ سے شاتمان رسول ملعون رشدی اور ملعون یونس چغتائی کو پاکستان کے حوالے کرنے کا پرزور مطالبہ کرے۔ 3۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی بلاتاخیر گجرات آئیں اور گجرات کے گستاخوں کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھانے کا علان کریں اور ایک شاتم رسول کو واصل جہنم کرنے والے پولیس ملازم غازی ثاقب کی رہائی اور انہیں بڑا انعام دینے کا اعلان کریں۔ پیر محمد افضل قادری نے فتویٰ جاری کیا کہ سلمان رشدی اور یونس چغتائی دونوں واجب القتل ہیں ان دونوں کی کتابیں انتہائی گستاخانہ اور دلآزار ہیں اور انکے پیچھے امن عالم کو تباہ کرنے والے کچھ فسادی لوگوںکا ہاتھ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملعون رشدی اور ملعون یونس چغتائی کو انٹرر پول کے ذریعے گرفتار کیاجائے اور اس جرم میں شریک تمام ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی کی جائے۔
Views: 11601 | Added by: loveless | Rating: 10.0/1
Total comments: 0
Only registered users can add comments.
[ Registration | Login ]
Our poll
Rate my site

Total of answers: 29
Statistics

ٹوٹل آن لائن 1
مہمان 1
صارف 0
Login form

Shopping Cart
Your shopping cart is empty
Search
Calendar
«  دسمبر 2011  »
SuMoTuWeThFrSa
    123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Entries archive

Get Your News Widget


Free Global Counter

{\rtf1\ansi\ansicpg1252\deff0\deflang1033{\fonttbl{\f0\fswiss\fcharset0 Arial;}} {\*\generator Msftedit 5.41.15.1507;}\viewkind4\uc1\pard\f0\fs20\par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par }