IP

[ New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
Page 1 of 11
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات » كعبة المشرفة (كعبة المشرفة)
كعبة المشرفة
lovelessDate: اتوار, 2012-01-29, 8:25 AM | Message # 1
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 185
Status: آف لائن
كعبة المشرفة

مصنف نے کعبہ شریف سے متعلق باب میں پہلے ان آیتوں کو پیش کیا ہے جن میں بیت اللہ کا ذکر ہے ، پھر بیت اللہ کی اولین تعمیر کا سوال اٹھایا ہے ، اور متعدد ادلہ و اقوال ذکر کرکے اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام سے قبل بنایا گیا تھا ، اور لوگ اس کا طواف و زیارت بھی کرتے تھے ، لیکن وقت گزر نے پر منہدم ہو گیا تھا ، اور نشان مٹ گئے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اسکی جگہ بتائی اور انہوں نے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کی تعمیر کی ـمصنف نے اس سوال سے متعلق روایات بھی ذکر کی ہیں کہ '' بہت اللہ کی اولین تعمیر کس کے ہاتھوں سے ہوئی ؟ ایک قوال ملائکہ کے ہاتھوں تعمیر کا ہے ، اس سے متعلق روایات ذکر کر کے مصنف نے ان پر حکم لگایا ہے ـ ایک قول یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے بیت اللہ کی اولین تعمیر کی ، مصنف نے اس ست متعلق روایات پر بھی بحث کی ہے ، پھر بنی آدم کی تعمیر کا تذکرہ مع روایات کیا ہے ، اور صحت و ضعیف کی توضیح کی ہے ـ

مصنف نے ملائکہ کے ذریعہ کعبہ کی تعمیر کے موضوع کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن جریر کا قول نقل کیا ہے ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل نے بیت اللہ کی بنیاد اٹھائی ـ اب یہاں پر یہ کہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اس گھر کی بنیاد اٹھائی تھی ـ جسے اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کے ساتھ اتارا تھا ، اور مکہ میں بیت اللہ کی جگہ اسے رکھ دیا تھا ـ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ یہ وہ قبہ تھا جس کاذکر عطا بن ابی رباح کی روایت میں ہے ـ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے اسے بنایا تھا ، پھر جب ان کی تعمیر منہدم ہو گئی تو اس کی بنیاد کو ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے اٹھایا ـ مگر قطعیت کے ساتھ کچھ بھی اسی وقت کہ سکتے ہیں جب اللہ تعالی کی طرف سے یا رسول اللہ کی طرف سے کوئی بات ثابت ہو ، اور یہاں پر کوئی بات ثابت نہیں ـ (تفسیر الطبری 430/1)

اسی طرح امام ابن کثیر نے لکھا ہے کہ نبی ﷺ سے کسی صحیح حدیث یہ ثابت نہیں کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے بنایا گیا تھا ، جس روایت میں آدم علیہ السلام کے قبہ نصب کرنے اور جس میں ملائکہ کے بیت اللہ کا آدم سے پہلے طواف کرنے اور جس میں کشتی کے چالیس روز بیت اللہ کا طواف کرنے کا ذکر ہے ، یہ سب اسرائیلی روایات ہیں ، ہم ان کی تصدیق یا تکذیب نہیں کر سکتے ، نہ ان سے استدلال کر سکتے ہیں ، اور جب کوئی صحیح روایت مل جائے گی تو انہیں رد کردیں گئے ـ(البدایہ وا النہایہ 162/1)

کعبہ کی تعمیر کے بیان میں مختلف تعمیرات کا ذکر کنے کے بعد مصنف نے 1040ھجری مطابق 1630 عیسوی میں وقوع پذیر سلطان مراد خان کی تعمیر کا ذکر گیارہ (11) صفحات میں کیا ہے ، اور وضاحت کی ہے کہ کعبہ کی یہی تعمیر اب تک باقی ہے ، البتہ اس میں مختلف اوقات میں مرمت ضرور ہوئی ہے ، سعودی عہد میں بھی 1377 ھجری سے 1403 ھجری تک مختلف نوعیت کی اصلاح و ترمیم ہوئی ـ مصنف نے کعبہ کی اجمالی و تفصیلی پیمائش کے بعد ایک خاکہ بھی ثبت کیا ہے جس سے دیواروں سمیت اندرونی و بیرونی مساحت کا علم ہوتا ہے ـ

مصنف نے کعبہ کی تعمیر کاذکر کرنے کے بعد کعبہ کے دروازہ کی تفصیل بھی چار صفھات سے زائد میں ذکر کی ہے ، اور وضاحت کی ہے کہ اگر کعبہ کی تعمیر ابراہیم علیہ السلام سے پہلے تسلیم کر لی جائے تو کسی صحیح روایت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس تعمیر میں کعبہ کا کوئی دروازہ تھا یا نہیں ؟ زبیر بن بکار نے ذکر کیا ہے کہ انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے کعبہ کا دروازہ بنایا ، پھر ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تو اس میں دروازہ رکھا ـ اس سے مختلف بعض دوسری روایات اور احتمالات بھی ہیں جنہیں مصنف نے ذکر کیا ہے ـ مصنف نے یہ بیان ان تفصیلات کو بھی محیط ہے جو باب کعبہ سے متعلق مختلف کتابوں میں مذکور ہیں ـ

کعبہ سے متعلق اصحاب فیل (ہاتھی والوں ) کا واقعہ مشہور ہے ، مصنف نے لکھا ہے کہ اس کا ذکر قرآن میں ہے ، اس لیے اس میں کسی نوعیت کے شبہ کی گنجائش نہیں ، قبیلہ قریش پر یہ اللہ تعالی کا احسان ہے کہ کعبہ کو منہدم کرنے کی نیت سے آنے والوں کو اللہ تعالی نے ہلاک کر دیا ـ یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے ممکن نہ تھا ـ قرآن کریم کے تیسیویں پارے میں '' الفیل '' نام کی ایک سورہ ہے ججس میں کعبہ کی حفاظت کا ذکر ہے ، سورہ کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی عرب اور قریش کو یاد دلا رہا ہے کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی لائی ہوئی دعوت توحید کی مخالفت کی تو ان کا انجام بھی ہاتھی والوں جیسا ہو گا ـ مصنف نے سورہ کے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ '' ابابیل '' جماعتوں اور جھنڈ کو کہتے ہیں '' اور '' سجیل '' سے سخت کنکر مراد ہیں ـ ہماری زبان میں ابابیل ایک مخصوص قسم کے چھوٹے پرندے کو کہا جاتا ہے جو تقریبا کنجشک کے برابر ہوتا ہے ، اس تسمیہ کی وجہ معلوم نہیں ، البتہ مصنف ابن کثیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ابن جریر نے ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ان کے پرندوں جیسی چونچ اور کتوں جیسے پنجے تھے ـ عکرمہ کا قول ہے کہ وہ سمندر سے نکلے ہوئے ہرے رنگ کے پرندے تھے ، ان کے سر درندوں جیسے تھے (تفسیر ابن کثیر 551/4) - اصحاب الفیل کا واقعہ 570 یا 571 عیسوی میں پیش آیا ، تاریخ خلیفہ کے مطابق یہی نبی ﷺ کی پیدائش کا بھی سال ہے
( تاریخ خلیفہ ص 52 ، ابن سعد 101/1)


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات » كعبة المشرفة (كعبة المشرفة)
Page 1 of 11
Search:


{\rtf1\ansi\ansicpg1252\deff0\deflang1033{\fonttbl{\f0\fswiss\fcharset0 Arial;}} {\*\generator Msftedit 5.41.15.1507;}\viewkind4\uc1\pard\f0\fs20\par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par \par \par \par \par Search Box Example 4 - Image used as submit button and default placeholder text that gets cleared on click\par \par \par \par \par \par \par \par \tab \par \tab
\par \tab\tab
\par \tab\tab \par \tab\tab
\par \tab\tab
\par \tab
\par \par \par \par }