جو حرفِ حق تھا وہی جا بجا کہا سو کہا - فورم

  • Page 1 of 1
  • 1
جو حرفِ حق تھا وہی جا بجا کہا سو کہا
loveless تاریخ: سوموار, 2011-09-05, 2:34 AM | پیغام # 1
Colonel
گروپ: ایڈ منسٹریٹر
پیغامات: 184
حالت: آف لائن
جو حرفِ حق تھا وہی جا بجا کہا سو کہا
بلا سے شہر میں میرا لہو بہا سو بہا
ہمی کو اہلِ جہاں سے تھا اختلاف سو ہے
ہمی نے اہلِ جہاں کا ستم سہا سو سہا
جسے جسے نہیں چاہا اُسے اُسے چاہا
جہاں جہاں بھی مرا دل نہیں رہا سو رہا
نہ دوسروں سے ندامت نہ خود سے شرمندہ
کہ جو کیا سو کیا اور جو کہا سو کہا
یہ دیکھ تجھ سے وفا کی کہ بے وفائی کی
چلو میں اور کہیں مبتلا رہا سو رہا
ترے نصیب اگر جا لگے کنارے سے
وگرنہ سیلِ زمانہ میں جو بہا سو بہا
شکست و فتح مرا مسئلہ نہیں ہے فراز
میں زندگی سے نبرد آزما رہا سو رہا


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
  • Page 1 of 1
  • 1
Search: