[ New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
  • Page 1 of 1
  • 1
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » شعر و شاعری » جب سے مرنے کي جي ميں ٹھاني ہے (شاعر جوش ملیح آبادی)
جب سے مرنے کي جي ميں ٹھاني ہے
lovelessDate: سوموار, 2011-09-05, 2:47 AM | Message # 1
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
جب سے مرنے کي جي ميں ٹھاني ہے کس قدر ہم کو شادماني ہے شاعري کيوں نہ راس آئے مجھے يہ مرا فن ِ خانداني ہے کيوں لب ِ التجا کو دوں جنبش تم نہ مانو گے، اور نہ ماني ہے روح کيا؟ آہ کي خفيف ہوا خون کيا؟ آنسوؤں کا پاني ہے آپ ہم کو سکھائيں رسم ِ وفا مہرباني ہے، مہرباني ہے دل ملا ہے جنہيں ہمارا سا تلخ ان سب کي زندگاني ہے کوئي صدمہ ضرور پہونچے گا آج کچھ دل کو شادماني ہے


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » شعر و شاعری » جب سے مرنے کي جي ميں ٹھاني ہے (شاعر جوش ملیح آبادی)
  • Page 1 of 1
  • 1
Search: