[ New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
  • Page 1 of 1
  • 1
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » شعر و شاعری » وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا (شاعر پروین شاکر)
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
lovelessDate: جمعرات, 2011-09-08, 2:00 AM | Message # 1
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا

پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا

اسے تو دوست ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ بھی تھے

خطا نہ ہوتا کسی طور ، تیر ایسا تھا

پیام دینے کا موسم نہ ہم نوا پاکر

پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا

کسی بھی شاخ کے پیچھے پناہ لیتی میں

مجھے وہ توڑ ہی لیتا، شریر ایسا تھا

ہنسی کے رنگ بہت مہربان تھے لیکن

اُداسیوں سے ہی نبھتی ، خمیر ایسا تھا

ترا کمال کہ پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں

غزالِ شوق کہاں کا اسیر ایسا تھا!


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » شعر و شاعری » وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا (شاعر پروین شاکر)
  • Page 1 of 1
  • 1
Search: