[ New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
  • Page 1 of 1
  • 1
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » شعر و شاعری » منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں (شاعر پروین شاکر)
منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں
lovelessDate: جمعرات, 2011-09-08, 2:04 AM | Message # 1
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں

حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں

یہ تُو ہے کہ میرا واہمہ ہے!

بند آنکھوں سے تجھ کو تک رہی ہوں

جیسے کہ کبھی نہ تھا تعارف

یوں ملتے ہوئے جھجک رہی ہوں

پہچان! میں تیری روشنی ہوں

اور تیری پلک پلک رہی ہوں

کیا چَین ملا ہے………سر جو اُس کے

شانوں پہ رکھے سِسک رہی ہوں

پتّھر پہ کھلی ، پہ چشمِ گُل میں

کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہوں

جگنو کہیں تھک کے گرِ چُکا ہے

جنگل میں کہاں بھٹک رہی ہوں

گڑیا مری سوچ کی چھنی کیا

بچّی کی طرح بِلک رہی ہوں

اِک عمر ہُوئی ہے خُود سے لڑتے

اندر سے تمام تھک رہی ہوں

رس پھر سے جڑوں میں جا رہا ہے

میں شاخ پہ کب سےپک رہی ہوں

تخلیقِ جمالِ فن کا لمحہ!

کلیوں کی طرح چٹک رہی ہوں


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » شعر و شاعری » منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں (شاعر پروین شاکر)
  • Page 1 of 1
  • 1
Search: