منگل
2020-09-29
10:52 PM
Welcome مہمان
RSS
 
Read! the name of lord پڑھ اپنے رب کے نام سے
Home Sign Up Log In
نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے - آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں »
[ Updated threads · New messages · Members · Forum rules · Search · RSS ]
  • Page 1 of 1
  • 1
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » شعر و شاعری » نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے (شاعر قتیل شفائی)
نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے
lovelessDate: سوموار, 2011-09-05, 0:45 AM | Message # 1
Colonel
Group: ایڈ منسٹریٹر
Messages: 184
Status: آف لائن
نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے
قتیل میرے سامنے چُرا لیا گیا مجھے

کبھی جو ان کے جشن میں سیاہیاں بکھر گئیں
تو روشنی کے واسطے جلا لیا گیا مجھے

براہِ راست رابطہ نہ مجھ سے تھا قبول انہیں
لکھوا کے خط رقیب سے بلا لیا گیا مجھے

جب ان کی دید کے لیے قطار میں کھڑا تھا میں
قطار سے نہ جانے کیوں ہٹا لیا گیا مجھے

میں روندنے کی چیز تھا کسی کے پاؤں سے مگر
کبھی کبھی تو زلف میں سجا لیا گیا مجھے

سوال تھا وفا ہے کیا جواب تھا کہ زندگی
قتیل پیار سے گلے لگا لیا گیا مجھے


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
آپ اس وقت فورم پر تشریف فرما ہیں » کیٹگری فورم » شعر و شاعری » نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے (شاعر قتیل شفائی)
  • Page 1 of 1
  • 1
Search: