میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا - فورم

[ تازہ ترین موضوعات · نئے پیغامات · اراکین · فورم کے قواعد · تلاش کریں · آر ایس ایس ]
  • Page 1 of 1
  • 1
میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا
اردو فورم
loveless تاریخ: جمعرات, 2011-10-06, 0:28 AM | پیغام # 1
Colonel
گروپ: ایڈ منسٹریٹر
پیغامات: 184

ارشاد الہی ہے:
(لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (سورة التوبة9: 128))
“(لوگو!)تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے۔ تم پر اگر کوئی تکلیف یا مشقت آئے تو وہ اسے شاق گزرتی ہے۔ وہ تمہاری فلاح و ہدایت کا حریص ہے۔ اہل ایمان کے لیے نہایت مہربان اور شفیق ہے۔”(1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
(لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ)(سنن ابی داود، المناسک، باب زیارۃ القبور، ح:2032)
“تم اپنے گھروں کو (نماز، دعا اور تلاوت قرآن ترک کرکے)قبرستان نہ بناؤ نہ میری قبر کو میلہ گہ بنانا اور تم جہاں بھی ہو مجھ پر درود و سلام بھیجو، تمہارے درود و سلام مجھے پہنچ جائیں گے۔”(2)
زین العابدین علی بن حسین رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شخص کو نبی ﷺکی قبر کے گرد بنی دیوار کے ایک شگاف سے اندر داخل ہو کر قبر کے پاس دعا کرتے دیکھا تو اسے روک دیا اور فرمایا کیا میں تجھے وہ حدیث نہ سناؤں جو میرے باپ (حسین رضی اللہ عنہ)نے میرے دادا(علی رضی اللہ عنہ)سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺسے سنی ہے، آپ نے فرمایا:
(لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلَا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَصَلُّوا عَلِيَّ فَإِنَّ تَسْلِيمَكُمْ يَبْلُغُنِي أَيْنَ مَا كُنْتُمْ)(رواہ الضیاء المقدسی فی المختارۃ، ح:428 ومجمع الزوائد:4/ 3)
“میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا۔ اور تم (نماز، دعا اور تلاوت قرآن ترک کرکے)اپنےگھروں کو قبرستان(کی مانند)نہ بنالینا اور مجھ پر درود پڑھتے رہنا۔ اس لیے کہ تم جہاں بھی ہو گے، تمہارا سلام مجھے پہنچ جائےگا۔”(3)

مسائل
1) اس تفصیل سے سورۂ توبہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر و توضیح ہوتی ہے۔
2) نبی ﷺنے اپنی امت کو حدود شرک سے بہت دور رہنے کی ہدایت اور تلقین فرمائی ہے۔
3) نبی ﷺاپنی امت پر نہایت شفیق و مہربان اور اس کی رشد و ہدایت کے انتہائی حریص اور خواہش مند تھے۔
4) نبی ﷺنے مخصوص طریقہ پر اپنی قبر کی زیارت سے منع فرمایا ہے لیکن آپ کی قبر کی زیارت، شرعی حدود و قیود میں رہ کر کی جائے تو یہ انتہائی فضیلت والا عمل ہے۔
5) نبی ﷺنے بار بار زیارت قبر کے لیے جانے سے منع فرمایا ہے۔
6) ان احادیث میں نفلی نماز گھروں میں ادا کرنے کی ترغیب بھی ہے۔
7) یاد رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں یہ بات طے شدہ اور معروف تھی کہ قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔
8) اس باب میں مذکورہ احادیث سے ثابت ہوا کہ آدمی جہاں بھی ہو وہیں درود و سلام پڑھ سکتا ہے خواہ دور ہی کیوں نہ ہو، لہذا اس غرض سے انسان کو قبر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔
9) حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺبرزخ میں ہیں اور امت کےاعمال میں سے درود وسلام، آپ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں۔

نوٹ:-
(1) ان کی اسی حرص اور تمنا کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے گلشن توحید کی مکمل حفاظت کی اور ہر وہ راہ جس سے ہم شرک کے مرتکب ہو سکتے تھے اسے بند کر ڈالا۔
(2) “لَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا” “میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا” یعنی سال میں کسی خاص دن یا مقررہ اوقات میں میلے کی مانند وہاں حاضری نہ دینا کیونکہ ایسا کرنے سے نبی کی تعظیم ، اللہ کی سی تعظیم ہوجاتی ہے۔
چونکہ قبروں کو میلہ گاہ بنانا شرک کا سبب اور ذریعہ ہے اس لیے نبی علیہ السلام نے فرمایا “تم جہاں بھی ہو وہیں مجھ پر درود وسلام بھیج دیا کرو اس لیے کہ تمہارے درود و سلام مجھ تک پہنچ جاتے ہیں۔”
(3) نبی ﷺنے توحید اور گلشن توحید کی مکمل حفاظت فرمائی اور ذریعہ شرک بننے والی ہر راہ حتی کہ اپنی قبر کی بھی حد درجہ تعظیم سے امت کو منع فرمایا۔ جب نبی ﷺکی قبر کی تعظیم میں غلو کرنا منع ہے تو باقی لوگوں کی قبروں کی بھی ایسی تعظیم کی اجازت نہیں۔ مگر افسوس کہ امت نے نبی ﷺکی ہدایت و فرامین کی پروانہ کی۔ان سب احکام، ہدایات اور فرامین کو پس پشت ڈالتے ہوئے قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ ان پر میلے اور عرس کرنے لگے۔ ان پر قبے کھڑے کردیے۔حتی کہ ان پر چراغاں کیے جاتے ہیں، قبروں پر جانورذبح کیے جاتے اور چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔کعبہ کی مانند ان کا بھی طواف ہوتا ہے۔ اور قبر کے اردگرد کی جگہ کو اسی طرح مقدس سمجھا جاتا ہے جیسے اللہ تعالی کی مقررہ حدوں کو مقدس سمجھتے ہیں ۔ یہ قبر پرست لوگ نبی یا کسی صالح و بزرگ شخصیت یا کسی ولی کی قبر کے پاس آکر اس قدر عاجزی ، انکسار اور خاموشی اختیار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کے حضور ایسی عاجزی نہیں کرتے۔ یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکی صریح مخالفت اور ان سے عداوت کا اظہار ہے۔ والعیاذ باللہ!


ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
 
  • Page 1 of 1
  • 1
Search: