بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَاِذَا اَرَدْنَآ اَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰھَا تَدْمِیْرًا
''اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کریں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ لوگ اس بستی میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ بستی عذاب کے حکم کی مستحق ہو جاتی ہے پھر ہم اس کو تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔
''ذَالِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۔[الانفال:٥٣] ''
یہ اس لیے کہ اللہ کبھی اس نعمت کو بدلنے والا نہیں ہے جواس نے کسی قوم کو بخشی ہو، تاوقتیکہ وہ قوم خود اپنے آپ کو نہ بدل دے
فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ۔[توبہ:٧٠] ''
اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان پر ظلم کرتا۔ وہ تو خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔''
پھر یہ بھی اسی قانون کی ایک دفعہ ہے کہ خدا ظلم (برنفس خود) پر مواخذہ کرنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ڈھیل دیتا ہے
اور تنبیہیںکرتا رہتا ہے کہ نصیحت حاصل کریں اور سنبھل جائیں۔
وَکَذَالِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَا اَخَذَ الْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَة اِنَّ اَخْذَہُ اَلِیْم شَدِیْد۔[ہود:١٠٢] ''
اور جب تیرا رب ظالم بستیوں کوپکڑتا ہے تو وہ ایسی ہی بری طرح پکڑتا ہے اوراس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہوا کرتی ہے۔
'' وَاِذَا اَرَادَ اللَّہُ بِقَوْمٍ سُوْئً فَلَا مَرَدَّ لَہ وَمَا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہ مِنْ وَّالٍ۔[رعد:١١] ''
اور جب خدا کسی قوم کے حق میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی قوت اس کی شامت کو دفع کرنے والی نہیں ہوتی، اور پھر خدا کے مقابلے میں ان کا کوئی مددگار نہیں نکلتا۔